نبیوں کا سردار ﷺ — Page 246
۲۴۶ نبیوں کا سردار اس میں یہ پیشگوئی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر خلیفہ رض ہوں گے اور نماز پڑھانے کے لئے مسجد میں اس راستہ سے آنا پڑے گا۔اس واقعہ کے مدتوں بعد جب حضرت عمر خلیفہ تھے ایک دفعہ آپ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے فرما یا بتاوَإِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَ الْفَتْحُ والی سورۃ میں سے کیا مطلب نکلتا ہے؟ گویا اس مضمون کے متعلق آپ نے اپنے ہم مجلسوں کا امتحان لیا جس کے سمجھنے سے وہ اس سورۃ کے نزول کے وقت قاصر رہے تھے۔ابن عباس جو اس واقعہ کے وقت دس گیارہ برس کے تھے اُس وقت کوئی ۱۷۔۱۸ سال کے نوجوان تھے۔باقی صحابہ تو نہ بتا سکے ابن عباس نے کہا اے امیر المؤمنین ! اس سورۃ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر دی گئی ہے کیونکہ نبی جب اپنا کام کر لیتا ہے تو پھر دنیا میں رہنا پسند نہیں کرتا۔حضرت عمر نے کہا سچ ہے میں تمہاری ذہانت کی داد دیتا ہوں۔جب یہ سورۃ نازل ہوئی ابوبکر اس کا مفہوم سمجھے مگر ہم نہ سمجھ سکے۔آخر وہ دن آگیا جو ہر انسان پر آتا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا کام دنیا میں ختم کر چکے، خدا کی وحی تمام و کمال نازل ہو چکی، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوتِ قدسیہ سے ایک نئی قوم اور ایک نئے آسمان اور ایک نئی زمین کی بنیاد ڈال دی گئی۔بونے والے نے زمین میں ہل چلایا، پانی دیا اور بیچ بود یا اور فصل تیار کی۔اب فصل کے کانٹے کا کام اس کے ذمہ نہ تھا۔وہ ایک مزدور کی حیثیت سے آیا اور ایک مزدور ہی کی حیثیت سے اسے اس دنیا سے جانا تھا کیونکہ اُس کا انعام اس دنیا کی چیزیں نہیں تھیں بلکہ اُس کا انعام اپنے پیدا کرنے والے اور اپنے بھیجنے والے کی رضا تھی۔جب فصل کٹنے پر آئی تو اس نے اپنے رب سے یہی خواہش کی کہ وہ اب اُسے دنیا سے اُٹھالے اور یہ فصل بعد میں دوسرے بخاری کتاب المغازی باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم (الخ)