نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 176

۱۷۶ نبیوں کا سردار گندے کاموں سے بچا کریں اور ہمیں کہتا ہے کہ کہ مروت اور وفائے عہد سے کام لیا کریں اور امانتوں کو ادا کیا کریں لے قیصر روم کا نتیجہ کہ آنحضرت عہ صادق نبی ہیں اس پر قیصر نے کہا۔سنو میں نے تم سے یہ سوال کیا تھا کہ اس کا نسب کیسا ہے تو تم نے کہا وہ خاندانی لحاظ سے اچھا ہے اور انبیاء ہمیشہ ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔پھر میں نے تم سے پوچھا کہ کیا اس سے پہلے کسی شخص نے ایسا دعویٰ کیا ہے تو تم نے کہا نہیں۔یہ سوال میں نے اس لئے کیا تھا کہ اگر قریب زمانہ میں اس سے پہلے کسی شخص نے ایسا دعوی کیا ہوتا تو میں سمجھتا کہ یہ بھی اُس کی نقل کر رہا ہے۔اور پھر میں نے تم سے پوچھا کہ کیا اس دعویٰ سے پہلے اس پر جھوٹ کا بھی الزام لگایا گیا ہے اور تم نے کہا نہیں تو میں نے سمجھ لیا کہ جو شخص انسانوں کے متعلق جھوٹ نہیں بولتا وہ خدا تعالیٰ کے متعلق بھی جھوٹ نہیں بول سکتا۔پھر میں نے تم سے پوچھا کہ کیا اس کے باپ دادوں میں سے کوئی بادشاہ بھی تھا۔تو تم نے کہا نہیں۔تو میں نے سمجھ لیا کہ اس کے دعوئی کی یہ وجہ نہیں کہ اس بہانہ سے اپنے باپ دادا کا ملک واپس لینا چاہتا ہے۔پھر میں نے تم سے پوچھا کہ کیا جابر اور زبردست لوگ اس کی جماعت میں داخل ہوتے ہیں یا کمزور اور مسکین طبع لوگ۔تو تم نے جواب دیا کہ کمزور اور مسکین طبع لوگ۔تو میں نے سوچا کہ تمام انبیاء کی جماعت میں اکثر مسکین طبع اور غریب ہی داخل ہوا کرتے ہیں نہ کہ جابر اور متکبر لوگ۔پھر میں نے تم سے پوچھا کہ کیا وہ بڑھتے ہیں یا گھٹتے ہیں۔تو تم نے کہا وہ بڑھتے ہیں اور یہی حالت نبیوں کی جماعت کی ہوا کرتی ہے جب تک وہ کمال کو نہیں پہنچ جاتی اُس وقت تک وہ بڑھتے چلے جاتے ہیں۔پھر میں نے تم سے پوچھا کہ کیا بخاری کتاب الوحی باب کیف كان بدء الوحى الى رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (الخ)