نبیوں کا سردار ﷺ — Page 177
122 نبیوں کا سردار کوئی شخص اُس کے دین کو نا پسند کر کے مرتد بھی ہوتا ہے تو تم نے کہا نہیں اور ایسا ہی انبیاء کی جماعت کا حال ہوتا ہے کسی اور وجہ سے کوئی شخص نکلے تو نکلے دین کو برا سمجھ کر نہیں نکلتا۔پھر میں نے تم سے پوچھا کہ کیا تمہارے درمیان کبھی لڑائی بھی ہوئی ہے اور اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔تو تم نے کہا لڑائی ہمارے درمیان گھاٹ کے ڈول کی طرح ہے اور نبیوں کا یہی حال ہے۔شروع شروع میں اُن کی جماعتوں پر مصیبتیں آتی ہیں لیکن آخر وہی جیتے ہیں۔پھر میں نے تجھ سے پوچھا۔وہ تمہیں کیا تعلیم دیتا ہے۔تو تم نے جواب دیا کہ وہ نماز کی اور سچائی کی اور پاکدامنی کی اور وفائے عہد کی اور امانت دار ہونے کی تعلیم دیتا ہے اور اسی طرح میں نے تجھ سے پوچھا کہ کیا وہ دھوکا بازی بھی کرتا ہے؟ تو تم نے کہا نہیں اور یہ طور وطریق تو ہمیشہ نیک لوگوں کے ہی ہوا کرتے ہیں۔پس میں سمجھتا ہوں کہ وہ نبوت کے دعوی میں سچا وو۔ہے اور میرا خود یہ خیال تھا کہ اس زمانہ میں وہ نبی آنے والا ہے، مگر میرا یہ خیال نہیں تھا کہ وہ عربوں میں پیدا ہونے والا ہے اور جو جواب تو نے مجھے دیئے ہیں اگر وہ سچے ہیں تو پھر میں سمجھتا ہوں کہ وہ ان ممالک پر ضرور قابض ہو جائے گا۔اس کی ان باتوں پر اس کے درباریوں میں جوش پیدا ہو گیا اور انہوں نے کہا آپ مسیحی ہوتے ہوئے ایک غیر قوم کے آدمی کی صداقت کا اقرار کر رہے ہیں اور دربار میں احتجاج کی آواز میں بلند ہونے لگیں۔اس پر دربار کے افسروں نے جلدی سے ابوسفیان اور اُس کے ساتھیوں کو دربار سے باہر نکال دیا ہے بخاری کتاب الوحی باب كيف كان بدء الوحي الى رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (الخ)