نبیوں کا سردار ﷺ — Page 175
۱۷۵ نبیوں کا سردار سوال: پھر اس نے پوچھا۔وہ بڑھتے ہیں یا گھٹتے ہیں؟ جواب: ابوسفیان نے جواب دیا۔بڑھتے چلے جاتے ہیں۔سوال: پھر قیصر نے پوچھا۔کیا اُن میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو اُس کے دین کو برا سمجھ کے مرتد ہوئے ہیں۔جواب : ابوسفیان نے کہا۔نہیں۔سوال: پھر اس نے پوچھا۔کیا اس نے بھی اپنے عہد کو بھی توڑا ہے؟ جواب : ابوسفیان نے جواب دیا۔آج تک تو نہیں۔مگر اب ہم نے ایک نیا عہد باندھا ہے دیکھیں اب وہ اس کے متعلق کیا کرتا ہے۔سوال: پھر اس نے پوچھا۔کیا تمہارے اور اس کے درمیان کبھی جنگ بھی ہوئی ہے؟ جواب : ابوسفیان نے جواب دیا۔ہاں۔سوال: اس پر بادشاہ نے پوچھا۔پھر ان لڑائیوں کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ جواب: ابوسفیان نے جواب دیا۔گھاٹ کے ڈولوں والا حال ہے۔کبھی ہمارے ہاتھ میں ڈول ہوتا ہے کبھی اس کے ہاتھ ڈول ہوتا ہے۔چنانچہ ایک دفعہ بدر کی لڑائی ہوئی اور میں اس میں شامل نہیں تھا اس لئے وہ غالب آ گیا تھا اور دوسری دفعہ اُحد میں لڑائی ہوئی اُس وقت میں کمانڈر تھا۔ہم نے ان کے پیٹ کاٹے اور اُن کے کان کاٹے ، ان کے ناک کاٹے۔سوال: پھر قیصر نے پوچھا۔وہ تمہیں کیا حکم دیتا ہے؟ جواب : ابوسفیان نے کہا وہ کہتا ہے کہ ایک خدا کی پرستش کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور ہمارے باپ دادا جن بتوں کی پوجا کرتے تھے وہ ان کی پوجا سے روکتا ہے اور ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم خدا کی عبادتیں کریں اور سچ بولا کریں اور برے اور