نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 169

۱۶۹ نبیوں کا سردار کر دیئے ہیں۔حضرت عثمان کے آنے کے تھوڑی دیر بعد مکہ کا ایک رئیس سہیل نامی معاہدہ کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ معاہدہ لکھا گیا۔شرائط صلح حدیبیہ خدا کے نام پر یہ شرائط صلح حمد بن عبداللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اور سہیل ابن عمرو ( قائمقام حکومت مکہ کے درمیان طے پائی ہیں۔جنگ دس سال کے لئے بند کی جاتی ہے۔جو شخص محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھ ملنا چاہے یا اُن کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہے وہ ایسا کر سکتا ہے۔اور جو شخص قریش کے ساتھ ملنا چاہے یا معاہدہ کرنا چاہے وہ بھی ایسا کر سکتا ہے۔اگر کوئی لڑکا جس کا باپ زندہ ہو یا ابھی چھوٹی عمر کا ہو وہ اپنے باپ یا متولی کی مرضی کے بغیر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس جائے تو اس کے باپ یا متولی کے پاس واپس کر دیا جائے گالیکن اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھیوں میں سے کوئی قریش کی طرف جائے تو اُسے واپس نہیں کیا جائے گا۔محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس سال مکہ میں داخل ہوئے بغیر واپس چلے جائیں گے لیکن اگلے سال محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے ساتھی مکہ میں آسکتے ہیں اور تین دن تک وہاں ٹھہر کر کعبہ کا طواف کر سکتے ہیں اس عرصہ میں قریش شہر سے باہر پہاڑی پر چلے جائیں گے۔لیکن یہ شرط ہوگی کہ جب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اور اُن کے ساتھی مکہ میں داخل ہوں تو اُن کے پاس کوئی ہتھیار نہ ہو سوائے اُس ہتھیار کے جو ہر مسافر اپنے پاس رکھتا ہے یعنی نیام میں ڈالی ہوئی تلوار لے ل السيرة الحلبية جلد ۳ صفحه ۲۰ ۲۱ مطبوعہ بیروت ۱۳۲۰ ھ + سیرت ابن هشام جلد ۳ صفحه ۱۸