نبیوں کا سردار ﷺ — Page 168
۱۶۸ نبیوں کا سردار شرارت سے یہ خبر پھیلا دی کہ عثمان کو قتل کر دیا گیا ہے اور یہ خبر پھیلتے پھیلتے رسول اللہ صلی علیہ وسلم تک بھی جا پہنچی۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو جمع کیا اور فر ما یا سفیر کی جان ہر قوم میں محفوظ ہوتی ہے۔تم نے سنا ہے کہ عثمان کومکہ والوں نے ماردیا ہے اگر یہ خبر درست نکلی تو ہم بزور مکہ میں داخل ہوں گے ( یعنی ہمارا پہلا ارادہ کہ صلح کے ساتھ مکہ میں داخل ہوں گے جن حالات کے ماتحت تھا وہ چونکہ تبدیل ہو جائیں گے اس لئے ہم اس ارادہ کے پابند نہ رہیں گے ( جو لوگ یہ عہد کرنے کے لئے تیار ہوں کہ اگر ہمیں آگے بڑھنا پڑا تو یا ہم فتح کر کے لوٹیں گے یا ایک ایک کر کے میدان میں مارے جائیں گے وہ اس عہد پر میری بیعت کریں۔آپ کا یہ اعلان کرنا تھا کہ پندرہ سوز ائر جو آپ کے ساتھ آیا تھا یکدم پندرہ سو سپاہی کی شکل میں بدل گیا اور دیوانہ وار ایک دوسرے پر پھاندتے ہوئے اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر دوسروں سے پہلے بیعت کرنے کی کوشش کی۔یہ بیعت تمام اسلامی تاریخ میں بہت بڑی اہمیت رکھتی ہے اور درخت کا عہد نامہ کہلاتی ہے کیونکہ جس وقت یہ بیعت لی گئی اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے نیچے بیٹھے تھے۔جب تک اس بیعت میں شامل ہونے والا آخری آدمی بھی دنیا میں زندہ رہا وہ فخر سے اس بیعت کا ذکر کیا کرتا تھا۔کیونکہ پندرہ سو آدمیوں میں سے ایک شخص نے بھی یہ عہد کرنے سے دریغ نہ کیا تھا کہ اگر دشمن نے اسلامی سفیر کو مار دیا ہے تو آج دوصورتوں میں سے ایک ضرور پیدا کر کے چھوڑیں گے۔یا وہ شام سے پہلے پہلے مکہ کو فتح کر کے چھوڑیں گے یا شام سے پہلے پہلے میدانِ جنگ میں مارے جائیں گے۔لیکن ابھی بیعت سے مسلمان فارغ ہی ہوئے تھے کہ حضرت عثمان واپس آگئے اور انہوں نے بتایا کہ مکہ والے اس سال تو عمرہ کی اجازت نہیں دے سکتے مگر آئندہ سال اجازت دینے کے لئے تیار ہیں۔چنانچہ اس بارہ میں معاہدہ کرنے کے لئے انہوں نے اپنے نمائندے مقرر