نبیوں کا سردار ﷺ — Page 170
۱۷۰ نبیوں کا سردار اس معاہدہ کے وقت دو عجیب باتیں ہوئیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرائط طے کرنے کے بعد معاہدہ لکھوانا شروع کیا تو آپ نے فرمایا ” خدا کے نام سے جو 66 بے انتہاء کرم کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔سہیل نے اس پر اعتراض کیا اور کہا خدا کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ بے انتہاء کرم کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا“ ہم نہیں جانتے کون ہے۔یہ معاہدہ ہمارے اور آپ کے درمیان ہے اور اس میں دونوں کے مذاہب کا احترام ضروری ہے۔اس پر آپ نے اُس کی بات قبول کر لی اور صرف اتنا ہی لکھوایا کہ ” خدا کے نام پر ہم یہ معاہدہ کرتے ہیں“۔پھر آپ نے یہ لکھوایا کہ یہ شرائط صلح مکہ والوں اور محمد رسول اللہ کے درمیان ہیں۔اس پر پھر سہیل نے اعتراض کیا اور کہا کہ اگر ہم آپ کو خدا کا رسول مانتے تو آپ کے ساتھ لڑتے کیوں؟ آپ نے اُس کے اس اعتراض کو بھی قبول کر لیا اور بجائے محمد رسول اللہ کے محمد بن عبد اللہ “ لکھوا یا۔چونکہ آپ مکہ والوں کی ہر بات مانتے چلے جاتے تھے ،صحابہ کے دل میں بے انتہاء رنج اور افسوس پیدا ہوا اور غصہ سے اُن کا خون کھولنے لگا یہاں تک کہ حضرت عمرؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا یا رسول الله ! کیا ہم سچے نہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں! پھر انہوں نے کہا یا رَسُول اللہ! کیا آپ کو خدا نے یہ نہیں بتایا تھا کہ ہم خانہ کعبہ کا طواف کریں گے؟ آپ نے فرمایا ہاں ! اس پر حضرت عمر نے کہا پھر آپ نے یہ معاہدہ آج کیوں کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔عمر ! خدا تعالیٰ نے مجھے یہ توفر ما یا تھا کہ ہم بیت اللہ کا طواف امن سے کریں گے مگر یہ تو نہیں فرمایا تھا کہ ہم اسی سال کریں گے یہ تو میرا اپنا اجتہاد تھا۔اسی طرح بعض دوسرے صحابہ نے یہ اعتراض کیا کہ یہ اقرار کیوں کر لیا گیا ہے کہ اگر مکہ کے لوگوں میں سے کوئی نوجوان مسلمان ہوا تو اس کے باپ یا ولی کی طرف واپس کر دیا جائے گا لیکن جو مسلمان مکہ والوں کی طرف جائے گا