نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 132

میرے خیمہ کو رہنے دویل نبیوں کا سردار بنو قریظہ کی مشرکوں سے مل کر حملہ کے لئے تیاری اور اُس میں ناکامی جیسا کہ او پر لکھا جا چکا ہے یہود نے مدینہ میں چوری چھپے داخل ہونے کی کوشش کی اور اس میں اُن کا جاسوس مارا گیا۔جب یہود کو یہ معلوم ہوا کہ اُن کی سازش ظاہر ہوگئی ہے تو اُنہوں نے زیادہ دلیری سے عربوں کی مدد شروع کر دی۔گو اجتماعی حملہ مدینہ کے پچھواڑے کی طرف سے نہیں کیا کیونکہ اُدھر میدان چھوٹا تھا اور مسلمانوں کی فوجوں کی موجودگی میں بڑا حملہ اُس طرف سے نہیں ہو سکتا تھا لیکن کچھ دن بعد دونوں فریق نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک وقت مقررہ پر یہودیوں اور مشرکوں کے لشکر یکدم مسلمانوں پر حملہ کر دیں۔مگر اُس وقت اللہ تعالیٰ کی تائید ایک عجیب طرح ظاہر ہوئی جس کی تفصیل یہ ہے۔نعیم نامی ایک شخص غطفان کے قبیلہ کا دل میں مسلمان تھا۔یہ شخص بھی کفار کے ساتھ آیا ہوا تھا لیکن اس بات کی انتظار میں تھا کہ اگر مجھے کوئی موقع ملے تو میں مسلمانوں کی مددکروں۔اکیلا انسان کر ہی کیا سکتا ہے۔مگر جب اُس نے دیکھا کہ یہود بھی کفار سے مل گئے ہیں اور اب بظاہر مسلمانوں کی حفاظت کا کوئی ذریعہ نظر نہیں آتا تو ان حالات سے اتنا متاثر ہوا کہ اُس نے فیصلہ کر لیا کہ بہر حال مجھے اس فتنہ کے دور کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ کرنا چاہئے۔چنانچہ جب یہ فیصلہ ہوا کہ دونوں فریق مل کر ایک دن حملہ کریں تو وہ بنو قریظہ کے پاس گیا اور اُن کے رؤساء سے کہا کہ اگر عربوں کا لشکر بھاگ جائے تو بتاؤ مسلمان ل السيرة الحلبية جلد ۲ صفحه ۳۴۶ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء