نبیوں کا سردار ﷺ — Page 133
۱۳۳ نبیوں کا سردار تمہارے ساتھ کیا کریں گے؟ تم مسلمانوں کے معاہد ہو اور معاہدہ کر کے اس کے توڑنے کے نتیجہ میں جو سزا تم کو ملے گی اُس کا قیاس کر لو۔اُن کے دل کچھ ڈرے اور اُنہوں نے پوچھا پھر ہم کیا کریں؟ نعیم نے کہا جب عرب مشتر کہ حملہ کے لئے تم سے خواہش کریں تو تم مشرکین سے مطالبہ کرو کہ اپنے ۷۰ آدمی ہمارے پاس یرغمال کے طور پر بھیج دووہ ہمارے قلعوں کی حفاظت کریں گے اور ہم مدینہ کے پچھواڑے سے اُس پر حملہ کر دیں گے۔پھر وہ وہاں سے ہٹ کر مشرکین کے سرداروں کے پاس گیا اور اُن سے کہا کہ یہ یہود تو مدینہ کے رہنے والے ہیں اگر عین موقع پر یہ تم سے غداری کریں تو پھر کیا کرو گے؟ اگر یہ مسلمانوں کو خوش کرنے کے لئے اور اپنے جرم کو معاف کروانے کے لئے تم سے تمہارے آدمی بطور یر غمال مانگیں اور اُن کو مسلمانوں کے حوالے کر دیں تو پھر تم کیا کرو گے؟ تمہیں چاہئے کہ اُن کا امتحان لے لو کہ آیا وہ پکے رہتے ہیں یا نہیں اور جلد ہی اُن کو اپنے ساتھ با قاعدہ حملہ کرنے کی دعوت دو۔کفار کے سرداروں نے اس مشورہ کو صحیح سمجھتے ہوئے دوسرے دن یہود کو پیغام بھیجا کہ ہم ایک اجتماعی حملہ کرنا چاہتے ہیں تم بھی اپنی فوجوں سمیت کل حملہ کر دو۔بنوقریظہ نے کہا کہ اول تو کل ہمارا سبت کا دن ہے اس لئے ہم اس دن لڑائی نہیں کر سکتے۔دوسرے ہم مدینہ کے رہنے والے ہیں اور تم باہر کے۔اگر تم لوگ لڑائی چھوڑ کر چلے جاؤ تو ہمارا کیا بنے گا۔اس لئے آپ لوگ ہمیں ۷۰ آدمی یر غمال کے طور پر دیں گے تب ہم لڑائی میں شامل ہوں گے۔کفار کے دل میں چونکہ پہلے سے شبہ پیدا ہو چکا تھا اُنہوں نے اُن کے اِس مطالبہ کو پورا کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر تمہارا ہمارے ساتھ اتحاد سچا تھا تو اس قسم کے مطالبہ کے کوئی معنی نہیں۔اس واقعہ سے اُدھر یہود کے دلوں میں شبہات پیدا ہونے لگے ادھر کفار کے دلوں میں شبہات پیدا ہونے لگے اور جیسا کہ قاعدہ ہے جب شبہات دل میں پیدا ہو جاتے ہیں تو بہادری کی روح بھی ختم ہو جاتی ہے۔انہی شکوک وشبہات کو ساتھ