نبیوں کا سردار ﷺ — Page 131
۱۳۱ نبیوں کا سردار تین آدمی مارے گئے اور مسلمانوں کے پانچ۔اس حملہ میں سعد بن معاذ اوس قبیلہ کے رئیس اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فدائی صحابی مُہلک طور پر زخمی ہوئے۔ان حملوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک جگہ خندق کے کنارے ٹوٹ گئے اور اُس طرف سے حملہ کرنا بہت ممکن ہو گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جرات اور مسلمانوں کی خیر خواہی کا یہ حال تھا کہ آپ سردی میں رات کو اُٹھ اُٹھ کر اُس جگہ جاتے اور اُس کا پہرہ دیتے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ آپ پہرہ دیتے ہوئے تھک جاتے اور سردی سے نڈھال ہو جاتے تو واپس آ کر تھوڑی دیر میرے ساتھ لحاف میں لیٹ جاتے ، مگر جسم کے گرم ہوتے ہی پھر اُس شگاف کی حفاظت کے لئے چلے جاتے۔اس طرح متواتر جاگنے سے آپ ایک دن بالکل نڈھال ہو گئے اور رات کے وقت فرمایا کاش! اِس وقت کوئی مخلص مسلمان ہوتا تو میں آرام سے سو جاتا۔اتنے میں باہر سے سعد بن وقاص کی آواز آئی۔آپ نے پوچھا کہ کیوں آئے ہو؟ اُنہوں نے کہا آپ کا پہرہ دینے کو۔آپ نے فرمایا مجھے پہرہ کی ضرورت نہیں تم فلاں جگہ جہاں خندق کا کنارہ ٹوٹ گیا ہے جاؤ اور اُس کا پہرہ دو تا مسلمان محفوظ رہیں۔چنانچہ سعد اُس جگہ کا پہرہ دینے چلے گئے اور آپ سو گئے لے رض عجیب بات ہے کہ جب آپ شروع شروع میں مدینہ تشریف لائے تھے اور خطرہ بہت بڑھا ہوا تھا تب بھی سعدہ پہرہ دینے کے لئے تشریف لائے تھے ) انہی ایام میں آپ نے ایک دن کچھ لوگوں کے اسلحہ کی آواز سنی اور پوچھا کون ہے؟ تو عباد بن بشیر نے کہا میں ہوں۔آپ نے فرمایا تمہارے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟ انہوں نے کہا ایک جماعت صحابہ کی ہے جو آپ کے خیمہ کا پہرہ دینے کے لئے آئے ہیں۔آپ نے فرمایا اس وقت مشرکین خندق پھاندنے کی کوشش کر رہے ہیں وہاں جاؤ اور اُن کا مقابلہ کرو ل السيرة الحلبية جلد ٢ صفحه ۳۴۶ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء