نبیوں کا سردار ﷺ — Page 130
نبیوں کا سردار کرتا ہے۔وو دوسرے دن محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) نے دیکھا کہ اتحادی فوجیں متفقہ طور پر اُن پر حملے کرنے کے لئے تیار کھڑی ہیں، اُن کے حملوں کو روکنے کے لئے بہت زیادہ ہوشیار اور ہر وقت چوکس رہنا ضروری تھا۔کبھی وہ متفقہ حملہ کرتے، کبھی دستوں میں تقسیم ہو کر مختلف چوکیوں پر حملہ کرتے اور جب کسی چوکی کو کمزور پاتے تو اپنی ساری فوج اُس جگہ پر جمع کر لیتے اور بے پناہ تیرا اندازی کے پردہ میں وہ خندق پار کرنے کی کوشش کرتے تھے۔یکے بعد دیگرے خالد اور عمرو جیسے مشہور لیڈروں کی ماتحتی میں فوج بہادرانہ حملہ شہر میں داخل ہونے کے لئے کرتی۔ایک دفعہ تو خود محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا خیمہ دشمن کی زد میں آ گیا لیکن مسلمانوں کے فدائیانہ مقابلہ اور تیروں کی بوچھاڑ نے حملہ آوروں کو پیچھے دھکیل دیا۔یہ حملہ سارا دن جاری رہا اور چونکہ مسلمانوں کی فوج ساری مل کر بمشکل خندق کی حفاظت کر سکتی تھی کوئی آرام کا وقفہ مسلمانوں کو نہ ملا۔رات پڑ گئی مگر رات کو بھی خالد کے ماتحت دستوں نے لڑائی کو جاری رکھا اور مسلمانوں کو مجبور کر دیا کہ وہ رات کو بھی اپنی چوکیوں کی حفاظت پورے طور پر کریں۔لیکن دشمن کی یہ تمام کوششیں بیکار گئیں۔خندق کو کبھی بھی دشمن کے کافی سپاہی پار نہ کر سکے اے لیکن باوجود اس کے کہ جنگ دو روز سے ہورہی تھی سپاہی ایک دوسرے کے ساتھ گتھ جانے کا موقع نہیں پاتے تھے اس لئے چوبیس گھنٹہ کی جنگ میں اتحادیوں کے صرف The Life of Mohammad by Willum Muir P۔311