نبیوں کا سردار ﷺ — Page 104
۱۰۴ نبیوں کا سردار قبیلوں میں سے ایک تو شام کی طرف ہجرت کر گیا اور دوسرے کا کچھ حصہ شام کو چلا گیا اور کچھ مدینہ سے شمال کی طرف خیبر نامی ایک شہر کی طرف۔یہ شہر عرب میں یہود کا مرکز تھا اور زبر دست قلعوں پر مشتمل تھا۔شراب نوشی کی ممانعت کا حکم اور اُس کا بے نظیر اثر جنگ اُحد اور اس کے بعد کی جنگ کے وقفہ کے درمیان دنیا نے اسلام کے اس اثر کی جو اس کا اپنے پیروؤں پر تھا ایک بین مثال دیکھی۔ہماری مراد امتناع شراب سے ہے۔اسلام سے پہلے اہلِ عرب کی حالت کو بیان کرتے ہوئے ہم نے بتلایا تھا کہ اہلِ عرب عادی شراب خور تھے۔ہر معز ز عرب خاندان میں دن میں پانچ دفعہ شراب پی جاتی تھی اور شراب کے نشہ میں مدہوش ہو جانا اُن کے لئے معمولی بات تھی اور اس میں وہ ذرا بھی شرم محسوس نہ کرتے تھے بلکہ وہ اس کو ایک اچھا کام سمجھتے تھے۔جب کوئی مہمان آتا تو گھر کی مالکہ کا فرض ہوتا کہ وہ شراب کا دور جاری کرتی۔اس قسم کے لوگوں سے ایسی تباہ کن عادت کو چھڑانا کوئی آسان بات نہ تھی۔مگر ہجرت کے چوتھے سال آنحضرت ﷺ پر حکم نازل ہوا ہے کہ شراب حرام کی جاتی ہے۔اس حکم کا اعلان ہوتے ہی مسلمانوں نے شراب پینا بالکل ترک کر دیا۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے۔کہ جب شراب کی حرمت کا الہام نازل ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو بلایا اور حکم دیا کے اس نئے حکم کا اعلان مدینہ کی گلیوں میں کر دو۔ایک انصاری کے گھر میں جو مدینہ کا مسلمان تھا اُس وقت شراب کی مجلس ہو رہی تھی بہت سے لوگ مدعو تھے اور شراب کا دور چل رہا تھا۔ایک بڑا مٹکا خالی ہو چکا تھا اور ایک دوسرا مٹکا شروع کیا جانے والا تھا۔لوگ مدہوش ہو چکے تھے اور بہت سے اور مدہوش ہونے کے قریب تھے۔اس حالت میں اُنہوں نے سنا کہ کوئی شخص اعلان کر رہا ہے