نبیوں کا سردار ﷺ — Page 105
۱۰۵ نبیوں کا سردار کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت شراب پینا منع فرما دیا ہے۔اُن میں سے ایک شخص اُٹھا اور بولا یہ تو شراب کے امتناع کا حکم معلوم ہوتا ہے۔ٹھہر و معلوم کر لیں۔اتنے میں ایک اور شخص اُٹھا اور اُس نے مٹکے کو جو شراب سے بھرا ہوا تھا اپنی لاٹھی مارکر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور کہا پہلے حکم کی تعمیل کرو اور پھر دریافت کرو۔یہ کافی ہے کہ ہم نے ایسا اعلان سن لیا اور یہ مناسب نہیں کہ ہم شراب پیتے جائیں اور تحقیقات کریں بلکہ ہمارا فرض یہ ہے کہ شراب کو گلیوں میں بہہ جانے دیں اور پھر اعلان کے متعلق تحقیقات کریں لیے اس مسلمان کا خیال درست تھا، کیونکہ اگر شراب کا پیا جان ممنوع قرار دیا جا چکا تھا تو اس کے بعد اگر وہ شراب پینا جاری رکھتے تو ایک جرم کے مرتکب ہوتے اور اگر شراب پینا ممنوع نہیں قرار دیا گیا تھا تو شراب کا بہا دینا اتنا بڑا نقصان نہ تھا کہ اُسے برداشت نہ کیا جا سکتا۔اس اعلان کے بعد شراب نوشی مسلمانوں سے بالکل دور ہو گئی۔اس انقلاب عظیم کو بر پا کرنے کے لئے کوئی خاص کوشش اور مجاہدہ کی ضرورت نہیں پڑی۔ایسے مسلمان جنہوں نے اس حکم کو سنا اور جو فوری تعمیل اس کی ہوئی اُس کو دیکھا ہستر اتنی سال تک زندہ رہے مگر اُن میں سے ایک مسلمان بھی ایسا نہیں جس نے اس حکم کے بعد اس کی خلاف ورزی کی ہو، اگر ایسا کوئی واقعہ ہوا ہے تو وہ ایسے شخص کے متعلق ہے جس نے براہ راست آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے استفادہ نہ کیا تھا۔جب ہم اس کا مقابلہ امریکہ کی تحریک امتناع شراب سے کرتے ہیں اور ان کوششوں کو دیکھتے ہیں جو اس حکم کو نافذ کرنے کے لئے کی گئیں یا جو سالہا سال تک یورپ میں کی گئیں تو ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ ایک صورت میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا محض ایک اعلان کافی تھا کہ اس تمدنی عیب کو عرب کے لوگوں سے معدوم کر دے۔مگر بخاری کتاب التفسير تفسير سورة المائدة باب قوله انما الخمر۔۔۔۔۔(الخ)