نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 103

۱۰۳ نبیوں کا سردار بہر حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیریت سے مدینہ پہنچے۔گو اس لڑائی میں بہت سے مسلمان مارے بھی گئے اور بہت سے زخمی بھی ہوئے لیکن پھر بھی اُحد کی جنگ شکست نہیں کہلا سکتی۔جو واقعات میں نے اوپر بیان کئے ہیں اُن کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ایک بہت بڑی فتح تھی ایسی فتح کہ قیامت تک مسلمان اس کو یاد کر کے اپنے ایمان کو بڑھا سکتے ہیں اور بڑھاتے رہیں گے۔مدینہ پہنچ کر آپ نے پھرا اپنا اصل کام یعنی تربیت اور تعلیم اور اصلاح نفس کا شروع کر دیا۔مگر آپ یہ کام سہولت اور آسانی سے نہیں کر سکے۔اُحد کے واقعہ کے بعد یہود میں اور بھی دلیری پیدا ہوگئی اور منافقوں نے اور بھی سر اُٹھانا شروع کر دیا اور وہ سمجھے کہ شاید اسلام کو مٹادینا انسانی طاقت کے اندر کی بات ہے۔چنانچہ یہودیوں نے طرح طرح سے آپ کو تکلیفیں دینی شروع کر دیں۔گندے شعر بنا کر اُن میں آپ کی اور آپ کے خاندان کی ہتک کی جاتی تھی۔ایک دفعہ آپ کو کسی جھگڑے کا فیصلہ کرنے کے لئے یہودیوں کے قلعہ میں جانا پڑا تو انہوں نے ایک تجویز کی کہ جہاں آپ بیٹھے تھے اُس کے اوپر سے ایک بڑی سل گرا کر آپ شہید کر دیئے جائیں مگر خدا تعالیٰ نے آپ کو وقت پر بتادیا اور آپ وہاں سے بغیر کچھ کہنے کے چلے آئے لے۔بعد میں یہودں نے اپنے قصور کو تسلیم کرلیا۔مسلمان عورتوں کی بازاروں میں بے حرمتی کی جاتی تھی۔ایک دفعہ اس جھگڑے میں ایک مسلمان بھی مارا گیا۔ایک دفعہ ایک مسلمان لڑکی کا سر یہود نے پتھروں سے مار مار کر کچل دیا اور وہ تڑپ تڑپ کر مرگئی۔ان اسباب کی وجہ سے یہودیوں کے ساتھ بھی مسلمانوں کو جنگ کرنا پڑی۔مگر عرب اور یہود کے دستور کے مطابق مسلمانوں نے اُن کو مارا نہیں، بلکہ صرف مدینہ سے چلے جانے کی شرط پر انہیں چھوڑ دیا۔چنانچہ اُن دونوں سیرت ابن ہشام جلد ۳ صفحه ۲۰۰،۱۹۹ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء