نبیوں کا سردار ﷺ — Page 102
۱۰۲ نبیوں کا سردار اس قسم کی فدائیت کی ایک اور مثال بھی تاریخوں میں ملتی ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہداء کو دفن کر کے مدینہ واپس گئے تو پھر عورتیں اور بچے شہر سے باہر استقبال کیلئے نکل آئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی باگ سعد بن معاذ مدینہ کے رئیس نے پکڑی ہوئی تھی اور فخر سے آگے آگے دوڑے جاتے تھے شاید دنیا کو یہ کہہ رہے تھے کہ دیکھا ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیریت سے اپنے گھر واپس لے آئے۔شہر کے پاس انہیں اپنی بڑھیا ماں جس کی نظر کمزور ہو چکی تھی آتی ہوئی ملی۔اُحد میں اُس کا ایک بیٹا عمرو بن معاذ بھی مارا گیا۔اُسے دیکھ کر سعد بن معاذ نے کہا يَا رَسُول اللہ ! امی۔اے اللہ کے رسول ! میری ماں آرہی ہے۔آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ کی برکتوں کے ساتھ آئے۔بڑھیا آگے بڑھی اور اپنی کمزور پھٹی آنکھوں سے اِدھر اُدھر دیکھا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل نظر آجائے۔آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ پہچان لیا اور خوش ہوگئی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مائی! مجھے تمہارے بیٹے کی شہادت پر تم سے ہمدردی ہے۔اس پر نیک عورت نے کہا۔حضور ! جب میں نے آپ کو سلامت دیکھ لیا تو سمجھو کہ میں نے مصیبت کو بھون کر کھا لیا۔مصیبت کو بھون کر کھا لیا۔کیا عجیب محاورہ ہے۔محبت کے کتنے گہرے جذبات پر دلالت کرتا ہے غم انسان کو کھا جاتا ہے۔وہ عورت جس کے بڑھاپے میں اُس کا عصائے پیری ٹوٹ گیا کس بہادری سے کہتی ہے کہ میرے بیٹے کے غم نے مجھے کیا کھانا ہے جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں تو میں اس غم کو کھا جاؤں گی۔میرے بیٹے کی موت مجھے مارنے کا موجب نہیں ہوگی بلکہ یہ خیال کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اُس نے جان دی میری قوت کے بڑھانے کا موجب ہوگا۔اے انصار! میری جان تم پر فدا ہو تم کتنا ثواب لے گئے۔ل السيرة الحلبية جلد ۲ صفحہ ۲۶۸،۲۶۷۔مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء