مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 87
87 اُن کا علمی مقام ہی انہیں لے ڈوبا اور ان کا وجو د ہندی مسلمانوں کو سوشلزم اور آل انڈیا نیشنل کانگرس کی چوکھٹ پر ناصیہ فرسائی کا موجب بن گیا۔حتی کہ کانگرسی علماء کی طرف سے انہیں ”امام الہند کا خطاب دے دیا گیا۔1905ء میں عالمی مسلح بغاوتیں 1905ء کا سال سوشلزم اور اس کے عالمی ایجنٹوں بالخصوص ہندوستان کے مسلح انقلابیوں یعنی سوشلسٹوں کے لئے نہایت درجہ اہمیت کا حامل ہے۔کیونکہ اسی سال 12 اپریل 1905ء کولندن میں سوشلسٹوں کی پہلی حقیقی بالشویک پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس کے ایجنڈا میں مسلح بغاوت اول نمبر پر شامل تھی۔6 سوشلسٹ چونکہ سمجھتے تھے کہ تشدد اور خانہ جنگی اور بغاوت کے ہتھکنڈوں کی کامیابی کا سارا مدار عوام کی حمایت پر ہوتا ہے لہذا اُ سکے انقلابی لیڈروں نے پہلے روس میں عوامی حمایت کی کی ایک مہم چلائی جو پہلے عام سیاسی ہڑتال ہوئی۔پھر خونی فسادات کے ذریعہ بغاوت کا آغاز کیا گیا جو اگر چہ ناکام ہوئی مگر اس سے سوشلسٹوں کے حوصلے بڑھ گئے اور وہ روس پر اقتدار کی منزل کو قریب تر کرنے میں سر گرم ہو گئے۔چنانچہ سوشلسٹ مفکر و مورخ ایلن وڈز نے بالشوازم راہ انقلاب میں اس بغاوت کی تفصیلات پر تیز روشنی ڈالی ہے۔اور لکھا ہے بغاوت انقلاب کا ایک اہم حصہ ہے۔7 نیز اعتراف کیا ہے کہ وہ نظری، سیاسی اور تنظیمی آلہ کار جن کی بدولت بالشویک پارٹی نے اکتوبر 1917ء میں محنت کشوں کو فتح سے ہمکنار کیا تھا وہ 1905ء کے انقلاب کی بھٹی کی حدت میں تیار ہوئے تھے۔8 1905ء کی فل ڈریس ریہرسل کے بغیر اکتوبر 1917 کے انقلاب کی فتح نا ممکن تھی۔و 12 اپریل 1905ء کو لندن بالشویک پارٹی نے مسلح بغاوت کی تجویز پاس کر کے ہڑتالوں، مظاہروں، فسادات اور سب سے بڑھ کر بغاوت کا سگنل دے دیا تھا۔اس لئے اُس کا رد عمل صرف روس میں ہی نہیں بلکہ اس کے اثرات یورپ کے علاوہ ایشیا کے ممالک پر بھی ہوئے۔چنانچہ روسی مفکر ایلن وڈز لکھتے ہیں۔”1905ء کے انقلاب کے گہرے بین الاقوامی اثرات بھی مرتب ہوئے۔۔۔۔روس کے انقلاب کے اثرات محض یورپ تک ہی محدود نہ رہے تھے بلکہ اس نے نو آبادیاتی اقوام کی انقلابی تحریکوں کو آگے بڑھانے میں بھی اپنا کر دار ادا کیا تھا۔دسمبر 1905ء میں بورژوا انقلاب کا تجربہ شروع ہو ا جو 1911ء میں اپنے نقطہ عروج تک پہنچا۔