مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 88
88 88 1905ء میں چین بھی بورژوا ڈیموکریٹ سین یات سین کے نام سے منسوب عوامی تحریک کے کرب سے گزر رہا تھا۔وقت آنے پر اس نے 1911-1913ء کے چین کے بورژوا انقلاب کی راہ ہموار کی تھی۔ترکی میں بھی ایک انقلابی تحریک کو ابھار ملا۔ایک پرسکون تالاب میں پھینکی گئی ایک بھاری چٹان کی طرح روس کے انقلاب نے بھی ایسی بڑی بڑی لہروں کو جنم دیا جن میں انتہائی دور دراز کے ساحلوں تک پہنچنے کی صلاحیت تھی۔10 ہندوستان میں بنگالی ہندوؤں کی بغاوت لندن بالشویک کانگرس کے نئے باغیانہ پروگرام پر روس کے بعد جن ممالک نے سب سے نمایاں مفسدانہ کردار ادا کیا وہ ہندوستان تھا۔جس کے شورش پسند ہندوؤں نے 1905ء میں بیک وقت برٹش گور نمنٹ اور بنگال کے مفلوک الحال مسلمانوں کے خلاف ایجی ٹیشن جاری کر دی۔بنیاد اس غنڈہ گردی کی یہ تھی کہ لارڈ کرزن نے تقسیم بنگال کا فیصلہ کر کے ہندوؤں کے مفاد پر ضرب کاری لگائی ہے اور مسلمانوں کے لئے ایک نیا صوبہ بنا کر ہمارے رام راج کے لئے شدید خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ایک ہند و تاریخ دان و دیا دھر مہاجن ایم اے، پی۔ایچ۔ڈی سابق پروفیسر تاریخ پولیٹیکل سائنس پنجاب یونیورسٹی کالج دہلی تحریر کرتے ہیں۔“Unmindful of the reactions of the people, Lord Curzon partitioned Bengal into two parts in 1905۔Most probably, his object was to create a Muslim-majority province۔The people of Bengal considered the partition to be a subtle attack on the growing solidarity of Bengal nationalism۔According to A۔C۔Mazumdar, the object of Lord Curzon in partitioning Bengal was not only to relieve the Bengali administration but to create a Mohammedan Province where Islam could be predominant and its followers in ascendancy۔The people of Bengal felt that they had been humiliated, insulted and tricked۔There was a