مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 86 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 86

چھٹی فصل 98 86 ابوالکلام آزاد، عالمی سوشلسٹوں سے روابط اور پارٹی میں شرکت بر سنسنی خیز انکشاف بر صغیر بلکہ پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دے گا کہ 1905ء میں سرا قبال کی ابوالکلام آزاد سے پہلی ملاقات ہوئی۔1 اور اسی سال جناب آزاد (ولادت 22 اگست 1888ء۔وفات 22 فروری 1958ء) بنگال کے ہندوؤں کی دہشت گرد اور باغیانہ تحریک میں شامل ہوئے اور ہند و کانگرس کے ممبر 2 کی حیثیت سے فلسفہ کارل مارکس پر عمل پیرا ہونے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگا دی۔سوشلسٹ اصطلاح کے مطابق یہ انقلابی“ تھے اور ان کی تنظیم کا نام انڈین ایسوسی ایشن تھا جسے جلد ہی غدر پارٹی کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔چنانچہ حکومت ہند کی قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی جامع اردو انسائیکلو پیڈیا جلد دوم صفحہ 285-286 میں لکھا ہے: ” بیسویں صدی کے شروع میں کینیڈا اور امریکہ کے مغربی حصوں میں آباد کاری ہو رہی تھی اور وہاں کام کرنے والوں اور مزدوروں کی ضرورت تھی۔چنانچہ پہلی جنگ عظیم سے ذرا پہلے پنجاب کے بہت سے لوگوں نے کینیڈا کا رخ کیا اور بہت سارے کیلے فورنیا جابسے۔جب یہاں اُن سے سخت برتاؤ ہونے لگا تو اُن کے دلوں میں بغاوت کی آگ بھڑک اٹھی۔اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے ان ہندوستانیوں نے ہندی ایسوسی ایشن کے نام سے ایک تنظیم بنائی۔بعد میں اس کا نام بدل کر غدر پارٹی کر دیا گیا۔غدر پارٹی کے پہلے صدر بابا سوہن سنگھ بھکنا اور سیکر ٹری لالہ ہر دیال بچنے گئے۔اس پارٹی نے نہ صرف کینیڈا اور امریکہ کے ہندوستانیوں کو منظم کیا بلکہ پیسے اور ہتھیاروں سے ہندوستان کی جنگ آزادی کی خاص طور پر انقلابی تحریکوں کی مدد بھی شروع کی۔اس کا صدر مقام سان فرانسسکو میں قائم کیا گیا اور ایک رسالہ غدر بھی شروع کیا گیا۔1913ء میں اس کا پہلا شمارہ اردو میں نکلا اور 1914ء میں اس کا پنجابی ایڈیشن بھی نکلنے لگا۔3 فروری 1914ء میں غدر پارٹی کی پہلی کا نفرنس اسٹاکٹن میں ہوئی اور س کی شاخیں امریکہ کے علاوہ کینیڈا، پناما اور چین میں بھی قائم کی گئیں جہاں ہندوستانیوں کی آبادی موجود تھی۔4 جناب ابو الکلام آزاد کا جدید علماء میں سے ایک ذہین و فطین انسان تھے جنہیں حق تعالیٰ نے تقریری اور تحریری صلاحیتوں سے حصہ وافر بخشا تھا۔اور وہ بچپن ہی سے غیر معمولی دماغ اور بلا کا حافظہ لے کر آئے تھے۔مگر جیسا کہ حضرت مصلح موعود کو الہام بتایا گیان ”وائے بر علمے کہ برباد کند عالم را“۔