مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 70
70 اگر شامل نہ بھی ہوتے تو بھی ان کی تمام تر ہمدردیاں اس کے ساتھ ضرور ہو تیں۔سوشلزم کے تصور کو اقبال نے جس حد تک قبول کر لیا تھا اس کا اندازہ بال جبریل سے بھی ہوتا ہے جو 1935ء میں شائع ہوئی تھی۔اس مجموعے کی تین نظمیں خصوصیت سے قابل ذکر ہیں جو ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔لینن (خدا کے حضور میں ) فرشتوں کا گیت اور فرمان خدا (فرشتوں کو)۔پہلی نظم میں لینن کو بھی مرنے کے بعد خدا کی ذات کے زندہ و پائندہ ہونے پر ایمان لانا ہی پڑتا ہے۔آج آنکھ نے دیکھا تو وہ عالم ہوا ثابت میں جس کو سمجھتا تھا کلیسا کے خرافات اس کے بعد لین خدا سے سوال کرتا ہے اور یہی سوال پوری نظم کی جان ہے: اک بات، اگر مجھ کو اجازت ہو تو پوچھوں حل کر نہ سکے جس کو حکیموں کے مقالات جب تک میں جیا خیمہ افلاک کے نیچے کانٹے کی طرح دل میں کھٹکی رہی یہ بات وہ کون سا آدم ہے کہ تو جس کا ہے معبود وہ آدم خاکی کہ جو ہے زیر سماوات؟ تو قادر وعادل ہے مگر تیرے جہاں میں ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ دنیا ہے تری منتظر روز مکافات اس کے بعد فرشتے جو گیت گاتے ہیں۔اس سے بھی لینن کی فریاد کی تائید ہوتی ہے : عقل ہے بے زمام ابھی عشق ہے بے مقام ابھی نقش گر ازل! ترا نقش ہے نا تمام ابھی