مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 71
71 خلق خدا کی گھات میں رند و فقیر دمیر و پیر تیرے جہاں میں ہے وہی گردش صبح و شام ابھی تیرے امیر مال مست ، تیرے فقیر مال مست بندہ ہے کوچہ گرد ابھی،خواجہ بلند بام ابھی لینن کی فریاد اور گیت سننے کے بعد فرشتوں کو حکم دیتا ہے: اُٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو کاخ امرا کے درودیوار ہلا دو گرماؤ غلاموں کا لہو سوزِ یقیں کنجشک فرومایہ کو شاہیں سے لڑا دو سلطانی جمہور کا آتا ہے زمانہ ! جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلادو یہ نظم :- اقبال کی اس نظم پر خلیفہ عبدالحکیم نے بڑے پرجوش انداز میں تبصرہ کیا ہے۔ان کا خیال تھا کہ ”ایسی ہیجان انگیز اور درد انگیز ہے کہ اس کے جذبے کو بر قرار رکھتے ہوئے اگر روسی زبان میں اس کا موثر ترجمہ ہو سکتا اور وہ لینن کے سامنے پیش کیا جاتا تو وہ اسے بین الا قوامی اشتراکیت کا ترانہ بنا دینے پر آمادہ ہو جاتا۔سوائے اِس کے کہ ملحد لینن کو اس میں خلل نظر آتا کہ اس میں خدا یہ پیغام اپنے فرشتوں کو دے رہا ہے اور اس کے نزدیک وجودنہ خدا کا ہے نہ فرشتوں کا۔۔۔۔یہ نظم کمیونسٹ مینی فیسٹو ( اشتراکی لائحہ عمل کا لب لباب ہے اور محنت کشوں کے لیے انقلاب بلکہ بغاوت کی تحریک ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ علامہ اقبال اشتراکیت کے تمام معاشی پہلوؤں سے