مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 69
69 ووٹ آئے اور اس کے مخالفت میں 58 ووٹ آئے۔اقبال اس کا نفرنس میں شریک تو نہیں ہوئے تھے لیکن ان کی یہ خواہش ضرور تھی کہ سوشلسٹ پارٹی کا ایک جداگانہ وجو د ہو اور کانگریس سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔اس لیے اس فیصلے سے انہیں دُکھ ہوا لیکن وہ مایوس نہیں ہوئے انہوں نے اس سلسلے میں ایک طویل بیان جاری کیا جس میں اور باتوں کے علاوہ اُنہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ : ”سوشلسٹ پارٹی کو اگرچہ شکست ہوئی ہے لیکن اس کے سامنے مستقبل ہے۔گو اس کا انحصار زیادہ تر کانگریس سے علیحدگی پر ہے۔“ اسی بیان کے ابتدائی حصے میں اقبال نے ملک کی سیاسی صورت حال کا جو تجزیہ کیا تھا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملکی سیاست کی رفتار کا وہ گہرا مطالعہ کر رہے تھے اور ترقی پسند قومی سیاست کے دھاروں کے ساتھ زیر وزبر ہونے کے لیے وہ تیار تھے۔امیروں کے خلاف ملک میں ایک عام جذبہ پیدا ہو گیا ہے۔وہ محسوس کر رہے ہیں کہ نازک مرحلوں پر امیر طبقہ ہمیشہ اُن سے غداری کرتا ہے۔جو حکومتیں کبھی سرمایہ داری کی پوجا کرتی تھیں، آج مزدوروں اور کسانوں کے رحم و کرم پر جی رہی ہیں۔سب طرف بے چینی کی چنگاریاں سلگ رہی ہیں اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ کس وقت ایسی خطرناک صورت اختیار کر لیں گی کہ ایک زبر دست آگ بن کر دنیا کے موجودہ نظام کو بھسم کر دیں۔“ ”جب ساری دنیا میں مساوات کی لہر چل رہی ہے تو ہندوستان کب اس کے اثر سے خالی رہ سکتا ہے۔یہاں کے غریبوں میں اب بیداری پیدا ہو رہی ہے۔اس وقت تک حکومت اور ہمارے لیڈر اُن کی طرف سے بے پروا ر ہے ہیں لیکن یہ حالت زیادہ عرصے تک قائم نہیں رہ سکتی۔سوسائٹی ایک خطر ناک دور سے گزر رہی ہے اور سوشلسٹ خیالات محض روسی پروپیگنڈے ہی کی وجہ سے نہیں پھیل رہے ہیں بلکہ اور بہت سے اسباب ایسے پیدا ہو گئے ہیں جن سے ملک کی اقتصادی حالت میں تبدیلی کا ہونا لازمی ہے۔“ ہندوستان میں سوشلسٹ پارٹی کے قیام سے اقبال کو اتنی شدید دلچسپی کیوں تھی اور یہ بیان جاری کرنے کی ضرورت اُنہوں نے کیوں محسوس کی؟ ان سوالوں کا اگر چہ کوئی واضح جواب ہمارے پاس نہیں ہے لیکن ان کے بیان کے لب ولہجے سے یہ نتیجہ اخذ کر نایقیناغلط نہ ہو گا کہ ملک میں باضابطہ سوشلسٹ پارٹی کا قیام اگر عمل میں آجاتا اور کانگریس سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو تا تو اقبال اس پارٹی میں