مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 60
60 نے کیوں فارسی زبان میں شعر کہنے شروع کئے۔بعض اصحاب یہ خیال کرتے ہیں کہ فارسی زبان میں نے اس لئے اختیار کی کہ میرے خیالات زیادہ وسیع حلقے میں پہنچ جائیں۔حالانکہ میرا مقصد اس کے بالکل برعکس تھا۔۔۔۔ہندوستان میں فارسی جاننے والے بہت کم تھے۔میری غرض یہ تھی کہ جو خیالات باہر پہنچانا چاہتا ہوں، وہ کم از کم حلقے تک پہنچیں“ اقبال کی زندگی کے اول الذکر پہلو نے ان سے ایسی نظمیں کہلائیں جن کی بنا پر ایڈیٹر زمیندار نے ان کو اشتراکی ہی نہیں بلکہ اشتراکیت کا مبلغ اعلیٰ گردانا اور موخر الذکر پہلو نے اس دعوے کی فوری تردید پر انہیں مجبور کیا۔یہ واقعہ جس زمانے میں پیش آیا وہ تھا بھی ہماری تاریخ کا انتہائی نازک دور۔انقلاب روس سے قبل برطانوی سامراج کو ہندوستان کی شمال مغربی سرحد پر زار روس کے عزائم منڈلاتے نظر آتے تھے۔انقلاب کے بعد اس کی جگہ بالشوزم کے ہوے نے لے لی تھی۔1923ء میں اقبال کوجب اعلانیہ اشتراکی کہا گیا تھا، اس وقت ہندوستان میں اشتراکی خیالات کے نشو نما کا اور اشتراکی طرز کی مزدور یونینوں کے آغاز کا زمانہ تھا۔دوسری طرف بین الا قوامی کمیونسٹ تنظیم نے ہندوستان میں کمیونسٹ پارٹی کی تنظیم کا کام برطانوی کمیونسٹ پارٹی کے سپر د کیا تھا۔حالات کی اس روش کو حکومت انتہائی پر تشویش اور غضب ناک نظروں سے دیکھ رہی تھی۔دارو گیر کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا تھا۔لاہور میں بھی بالشوک سازش کا ایک مقدمہ زیر سماعت تھا۔ان حالات میں سراسیمہ ہو کر اقبال کا اشتراکیت سے اپنی بریت ہی کا نہیں بلکہ اس سے شدید اختلاف کا اظہار کرنا ان کی افتاد طبع کے عین مطابق تھا۔حکومت کو بھی اقبال کے اشتراکی ہونے کا اور اشتراکیت کے مبلغ ہونے کا اگر یقین ہو جاتا تو ان کی زندگی کے اس پہلو پر سرے سے پانی پھر سکتا تھا جس کی تعمیر میں اُنہوں نے اپنی عوامی مقبولیت کو بھی داؤ پر لگا دیا تھا اور ان کی وہ نائٹ ہڈ (Knight-hood) بھی خطرے میں پڑ سکتی تھی جس کے حصول پر ابھی چھ مہینے بھی پورے نہیں ہوئے تھے۔دوسری طرف اقبال کے دل و دماغ کو روس کے اس انقلاب نے بے طرح متاثر بھی کیا تھا، جو بیسویں صدی ہی کا نہیں، انسانی تاریخ کا بھی اہم ترین واقعہ تھا۔اس نے روس کی وسیع سلطنت میں جو دنیا کے پانچویں حصے پر پھیلی تھی ، زار شاہی کا خاتمہ کر کے پہلی بار محنت کشوں کی حکومت قائم کی تھی۔اور اس کے اثرات روس ہی تک محدود نہیں رہے تھے بلکہ پہلی جنگ عظیم کی فاتح طاقتیں برطانیہ اور امریکا بھی اس سے لرز اٹھی تھیں۔اس انقلاب نے مشرق کے ملکوں خصوصاً ہندوستان کی جد وجہد آزادی کو نیا حوصلہ بخشا تھا اور اس کی رفتار تیز تر کر دی تھی۔اقبال کی فکر نے بھی اس انقلاب کو ” بطن