مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 59 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 59

59 ” مجھے یقین ہے کہ خود روسی قوم بھی اپنے موجودہ نظام کے نقائص، تجربے سے معلوم کر کے کسی ایسے نظام کی طرف رجوع کرنے پر مجبور ہو جائیگی جس کے اصول اساسی یا تو خالص اسلامی ہوں گے یا ان سے ملتے جلتے ہوں گے۔۔۔۔موجودہ حالات میں روسیوں کا اقتصادی نصب العین کتنا ہی محمود کیوں نہ ہو ، ان کے طریق عمل سے کسی مسلمان کو ہمدردی نہیں ہو سکتی۔ہندوستان اور دیگر ممالک کے مسلمان جو یورپ کی پولٹیکل اکانمی پڑھ کر مغربی خیالات سے فوراً متاثر ہو جاتے ہیں، ان کو لازم ہے کہ قرآن کریم کی اقتصادی تعلیم پر نظر ڈالیں۔مجھے یقین ہے کہ وہ اپنی تمام مشکلات کا حل اس کتاب میں پائیں گے“۔اس مراسلے کو خطوط اقبال“ میں تمام و کمال نقل کرنے کے بعد رفیع الدین ہاشمی کے ذہن میں قدرتی طور پر سوال تو پیدا ہوا کہ بلا مضمون پڑھے ہوئے اقبال نے اسی روز اور اُسی لمحے ایڈیٹر زمیندار کو خط لکھ کر اس کی تردید (کیوں) ضروری سمجھی۔اور تردید بھی اتنی مفصل۔لیکن اس کا جواب ڈھونڈنے کی اُنہوں نے ارادی یا غیر ارادی طور پر کوئی کوشش نہیں کی۔عبد السلام خورشید نے بھی اپنی ضخیم کتاب ”سر گزشت اقبال“ میں اس مراسلے کے طویل اقتباسات تو درج کیے لیکن انہوں نے بھی اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ان دونوں حضرات کے گریز کی وجہ شاید یہ ہے کہ اس کے جواب سے اقبال کے فکر و عمل کی دور نگی ظاہر ہونے کا امکان تھا۔اقبال نے اپنی زندگی کے دو خانے بنارکھے تھے۔ایک کا تعلق فکر سے تھا اور دوسرے کا عمل سے۔فکر کی دنیا میں وہ جس درجہ آزاد تھے ، عمل کی دنیا میں اُس سے شدید تر بندش بھی اُنہوں نے اپنے او پر عائد کر رکھی تھی اور کوئی بھی ایسا اقدام کرنے پر وہ خود کو آمادہ نہیں کر سکتے تھے جس سے حکومت کی چشم ابرو پر شکن پڑنے کا بھی احتمال ہو سکتا ہو۔اپنی زندگی کے مؤخر الذکر خانے کو محفوظ رکھنے کے لئے اقبال نے ارادی طور پر کوشش کی کہ ان کے قارئین کا حلقہ وسیع نہ ہونے پائے۔اسی کے پیش نظر اُنھوں نے اردو کی جگہ پر فارسی زبان کو اپنے اظہارِ خیال کا ذریعہ بنایا۔1932ء میں لندن کے ایک جلسے میں تقریر کرتے ہوئے اقبال نے اردو کی جگہ پر فارسی زبان کو اختیار کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا تھا: اردو کو چھوڑ کر فارسی میں شعر کہنا شروع کرنے سے متعلق لوگوں نے مختلف تو جیہات پیش کی ہیں۔مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آج میں یہ راز بھی بتا دوں کہ میں