مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 61
61 گیتی سے آفتاب تازہ“ کے ظہور سے تعبیر کیا تھا اور اسے خوش آمدید کہنے میں بخل سے کام نہیں لیا تھا۔اقبال ہی ہمارے ملک کے پہلے شاعر تھے جنہوں نے انقلاب روس کو اپنی فکر کا موضوع بنایا اور پر جوش انداز میں انقلاب کے نغمے گائے۔”پیام مشرق “ (1923ء) کی اکثر اور بانگ درا (1924ء) کے آخری حصے کی بیشتر نظموں میں اقبال نے ، بلا اگر مگر کے جن انقلابی خیالات کا اظہار کیا تھا، ان سے یہ گمان ہو نا غلط نہیں تھا کہ ”علامہ اقبال بھی بالشوک خیالات رکھتے ہیں۔۔۔۔“ اقبال کی طویل اور کامیاب ترین نظم ، خضر راہ اسی دور کی یاد گار ہے جس میں شاعر نے خضر راہ سے ایک یہ سوال بھی کیا تھا: اور سرمایہ و محنت میں ہے کیسا خروش؟ اس کے جواب میں خضر نے جن خیالات کا اظہار کیا، انہیں سیدھے سادے الفاظ میں اشتراکی تعلیمات کا نچوڑ کہنا غلط نہ ہو گا، اس کا پہلا بند یہ ہے: بندہ مزدور کو جاکر مرا پیغام دے خضر کا پیغام کیا، ہے یہ پیام کائنات اے کہ تجھ کو کہا گیا سرمایہ دار حیلہ گر شاخ آہو پر رہی صدیوں تلک تیری برات دست دولت آفریں کو مُزد یوں ملتی رہی اہل ثروت جیسے دیتے ہیں غریبوں کو خیرات ساحر الموت نے تجھ کو دیا برگِ حشیش اور تواے بے خبر سمجھا اسے شاخ نبات نسل، قومیت، کلیسا، سلطنت، تہذیب، رنگ خواجگی نے خوب چن چن کر بنائے مسکرات کٹ مرا ناداں خیالی دیوتاؤں کے لیے سکر کی لذت میں تولٹوا گیا نقد حیات مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات