مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 58 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 58

58 اشتراکیت کی حمایت کوئی جرم نہیں ہے۔۔۔۔علامہ اقبال بھی بالشوک خیالات رکھتے ہیں۔کوئی تھوڑی سیعقل کا مالک بھی سر اقبال کی خضر راہ' اور 'پیام مشرق کو بغور دیکھے تو اسی نتیجے پر پہنچے گا کہ علامہ اقبال ایک اشتراکی ہی نہیں بلکہ اشتراکیت کے مبلغ اعلیٰ بھی ہیں، پیام مشرق میں قسمت نامہ سرمایہ دار و مزدور ، اور نوائے وقت کے عنوان سے اُنہوں نے جو مختصر نظمیں لکھی ہیں۔۔۔۔کیا ایسے اشعار کی موجودگی میں کسی کو شک ہو سکتا ہے کہ علامہ اقبال ایک انتہائی خیالات رکھنے والے اشتراکی نہیں ہیں ؟“ اس مضمون کی شان نزول یہ تھی کہ ان دنوں لاہور میں بالشوک سازش کا ایک مقدمہ چل رہا تھا اور بزرگ پروفیسر غلام حسین بھی اس مقدمے میں ماخوذ تھے۔ان ہی کے دفاع میں یہ مضمون لکھا گیا تھا اور ان کی وکالت کرتے ہوئے اقبال کو کمیونسٹ ہی نہیں بلکہ کمیونزم کا مبلغ اعلیٰ بھی کہا گیا تھا۔اقبال پر اس کا جور د عمل ہوا، وہ حد درجہ شدید اور اسی درجہ دلچسپ بھی تھا۔جس دن یہ مضمون چھپا اسی دن اقبال کے کسی دوست نے ان سے اس کا تذکرہ کیا تو اقبال کو اپنے پیروں کے نیچے سے زمین سرکتی محسوس ہوئی اور وہ اس درجہ متوحش اور متر ڈر ہوئے کہ مضمون بلا دیکھے ہوئے اس کی تردید اُنھوں نے ضروری سمجھی۔چنانچہ اسی وقت ایک تردیدی مراسلہ اُنھوں نے لکھاجو دوسرے دن کے اخبار میں شائع ہوا۔اس مراسلے کے ابتدائی اور آخری حصے کے اقتباسات یہ ہیں۔”میں نے ابھی ابھی ایک دوست سے سنا ہے کہ کسی صاحب نے آپ کے اخبار میں یا کسی اور اخبار میں (میں نے ابھی اخبار نہیں دیکھا ہے ) میری طرف بالشوک خیالات منسوب کیے ہیں۔چونکہ بالشوک خیالات رکھنا میرے نزدیک دائرہ اسلام سے خارج ہو جانے کے مترادف ہے اس لئے اس تحریر کی تردید میر افرض ہے۔“ ” میں مسلمان ہوں۔میرا عقیدہ دلائل وبراہین پر مبنی ہے کہ انسانی جماعتوں کے اغراض کا بہترین علاج قرآن نے تجویز کیا ہے۔اس میں شک نہیں ہے کہ سرمایہ داری کی قوت جب حد اعتدال سے تجاوز کر جائے تو دنیا کے لئے ایک قسم کی لعنت ہے۔لیکن دنیا کو اس کے مضر اثرات سے نجات دلانے کا طریق یہ نہیں ہے کہ معاشی نظام سے اس قوت کو خارج کر دیا جائے جیسا کہ بالشوک تجویز کرتے ہیں“۔۔۔۔