مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 57
57 سودوزیاں کے درمیان ایک قسم کا ضروری تناقض ہے یا یوں کہو کہ ایک کا نفع اور دوسرے کا نقصان ہے۔لیکن۔۔۔۔شرح منافع کی تعیین میں مدت کو بھی بڑا دخل ہے یعنی اگر سرمائے اور منافع کے مقادیر میں کوئی تغیر پیدا نہ ہو تو جس مدت میں منافع کی خاص مقدار حاصل ہوتی ہے اس مدت کے کم ہو جانے یا یوں کہو کہ اشیاء تجارتی کے بہت جلد فروخت ہو جانے سے شرح منافع بڑھ جاتی ہے اور اس مدت کی زیادتی سے شرح منافع کم ہو جاتی ہے۔خواہ اجرت کی مقدار میں فرق ہویانہ ہو۔۔۔۔“ مندرجہ بالا تمام اقتباسات سے علامہ اقبال کی سوچ کا رخ عیاں ہے۔وہ مارکس اور اشتراکیت کا نام نہیں لیتے لیکن یہ طرز استدلال وہی ہے اور ان آراء کے تناظر میں مارکس، لینن اور سرمایہ و محنت کے موضوع پر لکھی گئی نظمیں ایک نئی جہت اختیار کر لیتی ہیں۔“ سوشلسٹ اقبال کی کہانی اب اقبالیات کے ماہر جناب عتیق صدیقی کے قلم سے سوشلسٹ اقبال کی کہانی حقائق کی زبانی پیش کی جاتی ہے جس سے ”حکیم الامت شاعر مشرق“ کے اصل مذہب اور حقیقی پیر ومرشد کی پوری طرح نقاب کشائی ہو جاتی ہے اور اُن کی تضاد بیانیوں کے بنیادی سبب کی بھی نشان دہی ہو جاتی ہے۔8 جناب عتیق صاحب تحریر فرماتے ہیں: اُٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگادو ”اقبال کے نام کے ساتھ مسلم سوشلسٹ“ کی صفت کا اضافہ آج سے چالیس سال قبل 1938ء میں پروفیسر محمد دین تاثیر نے کیا تھا۔لیکن اقبال کو اشتراکی اور بالشوک کہنے کی روایت تو نصف صدی سے بھی زیادہ پرانی ہے۔خطوط اقبال میں رفیع الدین ہاشمی نے اقبال کا ایک مراسلہ نقل کیا ہے جولاہور کے ایک کمیونسٹ اخبار روزنامہ زمیندار کی اشاعت مورخہ 24 جون 1923ء میں شائع ہوا تھا۔یہ قصہ بانگ درا کی پہلی اشاعت سے ایک سال پہلے کا تھا۔اقبال نے اس مراسلے میں اشتراکیت سے اپنی لا تعلقی ہی کا نہیں بلکہ اپنے شدید تنفر کا بھی اظہار کیا تھا۔ان کے اس اظہار خیال کا محرک ایک مضمون تھا جو متذکرہ بالا اخبار میں ان کے مراسلے کی اشاعت سے ایک ہی دن پہلے چھپا تھا۔اس مضمون میں اقبال کو تہمت اشتراکیت سے غالباً پہلی بار متہم کیا گیا تھا۔اس کا ایک اقتباس یہ ہے: