مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 56 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 56

56 تیاری کے لئے اس قدر اوزاروں کی ضرورت نہیں ہوتی جس قدر کہ بعد اکام کرنے والے بے ہنر دستکار کو۔کاریگر تھوڑے اوزاروں کی مدد سے بھی اپنا کام بخوبی کر سکتا ہے لہذا وہ مجموعی طور سے سرمائے کی مانگ کو کم کرتا ہے یا بالفاظ دیگر شرح سود کم کرتا ہے۔کیونکہ وہ اس مقدار کو استعمال میں لائے جانے سے بچاتا ہے جو بصورت دیگر اوزاروں کے بنانے میں صرف کرنی پڑتی۔اسی استدلال کی بنا پر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ پیداوار محنت کی یہ زیادتی کارخانہ دار کا حق بھی نہیں ہے کیونکہ کارخانہ دار کا حصہ یا منافع صرف اسی صورت میں زیادہ ہو سکتا ہے جبکہ کارخانہ داروں کی مقدار میں زیادتی ہو۔۔۔۔اور یہ کوئی ضروری نہیں کہ دست کاروں کا کاریگری میں ترقی کرنا کار خانہ داروں کی زیادتی مقدار کا مستلزم ہو بلکہ دست کاروں کے ہنر اور کاری گری میں ترقی کرنے سے لیاقت انتظامی کا معیار بڑھ جاتا ہے اور وہ دائرہ تجارت سے روز بروز خارج ہوتے جانے کا میلان رکھتے ہیں۔جس کے یہ معنی ہیں کہ کارخانہ داروں کا منافع کم ہو جاتا ہے، لہذ ا ثابت ہوا کہ پیداوار محنت کی زیادتی جو دستکاروں کی ذاتی ترقی سے پیدا ہوتی ہے، خود دست کاروں کا حق ہے۔زمینداروں، ساہوکاروں اور کار خانہ داروں کو اس سے کوئی واسطہ نہیں۔“ یہ طویل اقتباس اس لحاظ سے بے حد اہم ہے کہ اس میں محنت اور منافع کے باہمی تعلق کو واضح کرنے کے ساتھ ساتھ علامہ اقبال نے کھل کر اس امر پر زور دیا کہ دست کاروں کی محنت کا ثمر ان ہی کے لئے ہونا چاہیے۔”زمینداروں، ساہوکاروں اور کارخانہ داروں کو اس سے کوئی واسطہ نہیں۔“ اقبال نے اس ضمن میں جو کچھ لکھا، وہ بالکل غیر جذباتی انداز میں علمی معروضیت کے ساتھ لکھا ہے۔چنانچہ ایک اور جگہ پر اجرت اور منافع کے باہمی تعلق کو اجاگر کرتے ہوئے اس خیال کا اظہار کیا: " شرح منافع سے یہ ضروری اصول قائم ہوا کہ شرح منافع مصارف پیدائش اور اس مدت کے ساتھ جس میں منافع کی کل مقدار حاصل ہو نسبت معکوس رکھتی ہے۔“ اسی ذراسی بات کو نہ سمجھنے کے باعث بعض محققین نے بڑی بڑی غلطیاں کھائی ہیں۔وہ یہ سمجھتے ہیں کہ منافع کی مقدار صرف اسی صورت میں کم ہو سکتی ہے جبکہ اجرت کی مقدار زیادہ ہو۔لہذا ان حکماء کے نزدیک کارخانہ داروں اور محنتوں کے