مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 55
55 لیکن جب ان کی دولت مندی کے یہ اسباب نہیں تو صاف ظاہر ہے کہ ان کی امیری صریحاً اصول انصاف کے خلاف ہے۔“ یہاں اقبال نے واضح الفاظ میں غیر منصفانہ تقسیم دولت کی طرف اشارہ کیا ہے۔اقبال کے وقت تک مارکس اور اینجلز کی تصانیف نہ صرف عام تھیں بلکہ ان کے نظریات کا چرچا بھی تھا، گو اقبال نے کسی موقع پر بھی ان دونوں کے نام نہیں لئے لیکن مندرجہ بالا بیان کو جس طرح ختم کیا گیا اس سے واضح ہوتا ہے کہ اقبال، مارکس کے تصورات سے آگاہ تھے۔چنانچہ لکھتے ہیں: ان نتائج کو ملحوظ رکھ کر بعض محققین نے بڑے زور وشور سے ثابت کیا ہے کہ یہ سب نا انصافی جائیداد شخصی سے پیدا ہوتی ہے، جس کا وجود قومی بہبود کے لئے انتہا درجے کا مضرت رساں ہے۔پس حکماء کے اس فریق کے نزدیک زمین کسی خاص فرد کی ملکیت نہیں بلکہ قومی ملکیت ہونی چاہیے۔بالفاظ دیگر یوں کہو کہ لگان کی یہ زائد مقدار جو آبادی کی زیادتی کے سبب سے پیدا ہوتی ہے ، سرکار یا قوم کا حق ہے نہ کہ زمینداران کا“ یہاں واضح طور سے اقبال مارکس کے زائد قدر (Surplus Value) کے نظریے کا حوالہ دے رہے ہیں گو انہوں سے اس نظریہ سے وابستہ تمام جزئیات اور امکانات کو اجاگر کرنے کی کوشش نہ کی۔اقبال نے ایک اور موقع پر بھی اسی خیال کا اظہار کیا ہے: سوال یہ ہے کہ پیداوار محنت کی یہ زیادتی کس کا حق ہے ؟زمیندار کا ہر گز نہیں! کیونکہ اس مصالح میں کوئی زیادتی نہیں ہوئی جس کو زمین سے نکال کر اشیاء تجارتی کی تیاری میں صرف کیا جاتا ہے۔اس کی مقدار وہی ہے جو پہلے صرف ہوا کرتی تھی بلکہ دستکاروں کی کفایت شعاری کی وجہ سے نسبتا کم ہو گئی ہے، لہذا مصالح مذکورہ کی مانگ میں کوئی تغیر نہ آنے کی وجہ سے ادنیٰ درجہ کی زمینوں کو کاشت میں نہیں لانا پڑتا جس سے لگان یعنی زمیندار کے حصے کی مقدار میں اضافہ ہو جائے۔علی ہذا القیاس۔یہ زیادتی ساہوکار کا بھی حق نہیں ہے کیونکہ سرمائے کی مانگ بدستور وہی ہے جو پہلے تھی۔کوئی وجہ نہیں کہ شرح سود یعنی ساہوکار کا حصہ نسبتاً بڑھ جائے جبکہ سرمائے کی مانگ میں کوئی اضافہ نہ ہو بلکہ دست کاروں کا کاریگری میں ترقی کرنا ساہوکار کے حصے کو الٹا کم کرنا ہے۔کیونکہ کاری گر دستکار کو بالعموم اشیاء تجارت کی