مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 29
29 ہیں اور ان سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد کو کم و کیف کے لحاظ سے محدود رکھنا درست نہیں اور پھول بچنا اور توڑا جاتا ہے اور احباب یعنی مذہب باب کے پیروکاروں کو ہدیہ اور تحفہ میں دیا جاتا ہے۔اور جہاں تک تم سے کسی کا مال اپنے پاس ذخیرہ کر رکھنے اور دوسروں کو اسے استعمال کرنے اور فائدہ اٹھانے سے روکنے کا تعلق ہے تو یہ ہر مصبیت اور وبال کی جڑ ہے۔کیونکہ مال صرف کسی ایک فرد کے لئے نہیں پیدا کیا گیا کہ وہ اکیلا اس سے مزہ اڑا تا ر ہے جبکہ محروم حسرت کرتا رہے۔بلکہ یہ مال عام حق ہے جو صرف کسی ایک سے مختص نہیں اور سب لوگوں کی برابر شراکت کے لئے بنایا گیا ہے۔ذخیرہ اندوزی کرنے اور صرف اپنے لئے رکھ لینے کی بجائے لوگوں میں گردش دینے کے لئے ہے۔پس تم ایک و دسرے کو مالوں میں شریک کرو تاکہ تم سے غربت اور تکلیف جاتی رہے۔اپنے غریب کو اپنے امیر کے برابر بنادو۔تم اپنی بیویوں کو اپنے احباب (باب کے پیروکاروں) سے پر دہ میں نہ رکھو کیونکہ اب کوئی روک ٹوک نہیں، نہ کوئی ممانعت ہے نہ کوئی شرعی حکم ہے۔پس تم اس زندگی سے اپنا حصہ لے لو کیونکہ موت کے بعد کچھ نہیں۔قرة العین نے اس اعلان کے بعد ناصر الدین قاچار شاہ ایران کے دربار میں باب جیسے بدترین دشمن اسلام اور ناسخ شریعت قرآن کی شان میں ایک قصیدہ پڑھا جس میں نبیوں کے سردار خاتم النبیین رحمۃ اللعالمین حضرت محمد مصطفی احمد مجتبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اقدس میں ایسی دریدہ دہنی، بد زبانی اور گستاخی کی جس کا تصور بھی ایک عاشق رسول کے قلب وروح کو تڑپا دیتا ہے۔اس نے کہا۔دو ہزار احمد مجتبی زبروق آں شہر اصطفاء شده مختلفی شده در خفا متد شراً متنز ملاً ترجمہ : یعنی شہر اصطفاء باب کی چمک دمک سے دو ہزار احمد مجتبی بالا پوش اوڑھے جھرمٹ مارے ہوئے پوشیدہ ہو گئے۔24 اقبال اور قرۃ العین کیا ہے۔سر اقبال نے ”جاوید نامہ" میں بابی شاعرہ قرۃ العین طاہرہ کو زبر دست خراج عقیدت ادا از گناہ بندہ صاحب جنوں کائنات تازه آید بروں! شوق بے حد پرده ها را بررد کهنگی را از تماشامی برد!