مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 30 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 30

30 آخر از دارورسن گیرد نصیب برنگردد زنده از کوئے حبیب! جلوه او بنگر اندر شهر ودشت تانه پنداری که از عالم گزشت! در ضمیر عصر خود پوشیده است اندریں خلوت چسال گنجیده است؟25 ترجمہ : ایک صاحب جنون بندے (طاہرہ) کے قیام سے نئی کائنات ظہور میں آرہی ہے۔غیر محدود عشق حجابات کو چاک کر دیتا ہے۔کہنگی و قدامت کو منظر سے ہٹا دیتا ہے۔آخر کار اسے دارور سن نصیب ہو جاتے ہیں اور وہ کوچہ محبوب سے زندہ نہیں لوٹتا۔آج اس (طاہرہ ) کا جلوہ شہر اور دیہات میں دیکھ لو۔یہ نہ سمجھ بیٹھو کہ وہ اس دنیا سے گزر گئی۔وہ تو اپنے عصر کے ضمیر میں چھپی ہوئی ہے۔دیکھ لیجئے کہ اس خلوت میں کس طرح سمائی ہوئی ہے۔علاوہ ازیں ”جاوید نامہ“ میں ہی قرۃ العین کو ” خاتون عجم “ کا خطاب دیتے ہوئے لکھتے ہیں۔پیش خود دیدم سه روح پاکباز آتش اندر سینہ شاں گیتی گداز ! در بر شاں حلہ ہائے لالہ گوں چهره با رخشنده از سوز دروں ! در تب تابے زہنگام الست از شراب نغمہ ہائے خویش مست ! گفت رومی این قدرانه از خود مر و از دم آتش نوایاں زنده شو! شوق بے پروا ندیدستی نگر! زور این صہبا ندیدستی نگر ! غالب و حلاج و خاتون شور با افگنده در جان حرم! اں نوابا روح را بخشد ثبات گرمی او از دروں کائنات ! میں نے اپنے سامنے تین پاکباز روحوں کو دیکھا جن کے سینے میں دنیا کو جلا دینے والی آتش عشق تھی۔انہوں نے سرخ کپڑے پہن رکھے تھے۔ان کا چہرہ دل کی گرمی سے چمک رہا تھا۔یہ ارواح روز الست سے ہی تب و تاب میں تھیں اور اپنے ہی نغمات کی شراب میں مست تھیں۔رومی نے مجھ سے کہا اس قدر مت کھو جاؤ۔آتش نواؤں کے نفس سے زندہ ہو جاؤ۔اگر بے نیاز عشق نہیں دیکھا تو یہ