مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 28
28 المال عند أحد كم و حرمان غير كم من التمتع به والاستعمال، فهو أصل كل وزر واساس كل وبال لانه لم يخلق لنفس واحدة تتلذذ به من حيثيتحسر المحروم، بل هو حق مشاع غير مقسوم جعل للاشتراك بين الناس ، وللتداول من دون احتكار ولا اختصاص ، فلیشارک بعضکم بعضا بالاموال، ليرفع عنكم الفقر ويزول الوبال ساوواافقير كم بغنيكم، ولا تحجبو احلائلكم عن أحبابكم اذلاردع الآن ولاحد، ولامنع ولا تكليف ولا صد فخذوا حظكم من هذه الحياة فلاشييء بعد الممات انتهى ترجمہ: 23" ( مفتاح باب الابواب محمد المهدی الحکیم محمد المنتقی صفحہ 180-181 مطبوعہ ایران) ”سنواے پیارو اور غیر و ( یہ دو لفظ بابی اصطلاح میں کنایہ ان کے دین کے ماننے والوں اور منکروں کے لئے استعمال ہوتے ہیں) تم جان لو کہ اب ظہور باب کے ذریعہ شریعت محمدیہ کے احکام منسوخ ہو چکے ہیں اور نئی شریعت بابیہ کے احکام ہم تک نہیں پہنچے۔اب روزہ، نماز، زکوۃ اور دیگر احکام جو محمد نے دیئے تھے ان کی بجا آوری ایک لغو اور بے کار کام ہے۔اِس وقت کے بعد ان احکام (شریعت محمدیہ کے احکام ) پر غافل اور جاہل شخص کے سوا کوئی عمل نہ کرے گا۔ہمارا آقاباب عنقریب شہروں کو فتح کرلے گا اور لوگوں کو مسخر کرلے گا اور ساتوں آباد براعظم اس کے آگے سر تسلیم خم کر دیں گے۔وہ (باب) اس وقت موجود تمام ادیان کو وسیع تر صورت میں ایک کر دے گا۔یہاں تک کہ صرف ایک ہی دین باقی رہ جائے گا اور یہی سچا دین ہے جو کہ اس (باب) کا وہ نیا دین اور اسکی وہ جدید شریعت ہے جس میں سے صرف بالکل معمولی ساحصہ ہی ہم تک پہنچا ہے۔پس اس پر بنا کرتے ہوئے میں تم سے کہتی ہوں اور میری بات حق ہے۔کہ آج کوئی شرع حکم باقی نہیں۔اس وقت فترت ( دوو حیوں یا دو شریعتوں کا درمیانی وقفہ) کے دور میں ہیں۔پس تم وحدت سے کثرت کی طرف چلو اور یہ جو تمہارے اور تمہاری عورتوں کے درمیان پردہ ہے اسے پھاڑ دو، اس طرح کہ انہیں بھی کاموں میں شریک کر و۔ان میں بھی کام تقسیم کرو۔اور تفریح اور استفادہ کے بعد اُن سے تعلق قائم رکھو اور انہیں خلوت سے نکال کر لوگوں کے سامنے لاؤ۔کیونکہ وہ تو دنیاوی زندگی کی خوبصورتی ہیں اور لازمی ہے کہ خوبصورت پھول کو ( پودے سے ) توڑا اور سونگھا جائے۔یہ عور تیں تو ساتھ لگانے اور سونگھنے کے لئے