مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 24
24 برابر برابر ہے، یہ لوگ عورتوں میں بھی مساوات کے قائل ہیں کہ ہوا اور پانی کی طرح عور تیں بھی ”ملک مشاع “ ہیں۔ہر ایک مرد ان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔بابک خرمی ( جو خلیفہ معتصم باللہ العباسی کے ہاتھوں قتل ہوا) مزدک ہی کا ہم عقیدہ تھا۔اس کے پیر و (جو اسلام کو مٹا کے ایرانی مجوسی قائم کرنا چاہتے تھے ) اسی مساوات واشتراکیت کا عقیدہ رکھتے تھے۔خرمیہ بھی فرقہ مزدکیہ کی ایک شاخ ہے۔فرقہ اسماعیلیہ جو اسماعیل بن جعفر صادق کی امامت کا قائل ہے ، ان کے مذہب کا راز بھی فرقہ خرمیہ ہی کی تعلیم ہے اور وہیں سے انہوں نے اپنے اصول اخذ کئے ہیں۔یہ وہی لوگ ہیں جو قرامطہ اور بنی عبید اور اُن کے عنصر کے قول پر ہیں۔“18 پروفیسر مقبول بیگ بدخشانی اپنی معرکہ آرا تالیف " تاریخ ایران“ جلد اول میں مزدک اور مزدکیوں کے عقائد واحوال کی نسبت تحریر فرماتے ہیں۔مزدک کی شخصیت کے متعلق قدیمی تاریخوں میں بہت کم معلومات ملتی ہیں۔اس بات پر تو سب متفق ہیں کہ وہ بامداد کا بیٹا تھا۔لیکن وہ رہنے ولا کہاں کا تھا؟ اس کے متعلق مورخین کی آرا مختلف ہیں۔طبری لکھتے ہیں کہ وہ صوبہ خراسان کے شہر کا رہنے والا تھا۔دینوری اسے استخر کا باشندہ لکھتے ہیں۔تبصرۃ العوم میں لکھا ہے کہ وہ تبریز کا رہنے والا تھا۔بہر حال اس پر سب کا اتفاق ہے کہ وہ ایرانی الاصل تھا۔“ مزد کیوں کا اہم ترین عقیدہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے روئے زمین پر زندگی کے وسائل پیدا کیے تا کہ سب یکساں طور پر ان سے متمتع ہوں اور کسی کو دوسرے کی نسبت زیادہ حصہ نہ ملے۔لیکن لوگ دوسرے پر ے پر ظلم روا رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کی مخالفت پر تل جاتے ہیں۔طاقتور کم زوروں پر غلبہ پاکر اناج اور زرومال کو اپنے لیے مخصوص کر لیتے ہیں۔پس ضروری ہے کہ امراء سے دولت لے کر غرباء میں تقسیم کی جائے۔”مال و دولت کو اس طرح مشترک بنانا چاہیے جس طرح کہ پانی، آگ اور چراہ گاہیں ہیں۔خدا نے مخلوقات کے لئے مساوات کی بنیاد قائم کی ہے، اس کے نزدیک سب برابر ہیں۔نہ کسی کو اس کے حق سے زیادہ ملتا ہے نہ کم۔ہر چیز سب کے لئے مشترک ہے، یہاں تک کہ ازواج بھی۔مزدک کی یہ تحریک شروع شروع میں مذہبی تھی لیکن بعد میں اس نے سیاسی رنگ اختیار لیا۔پہلے ذکر آچکا ہے کہ مزدک نے قباد سے ملاقات کی اور اپنی موئثر گفتگو سے اسے گرویدہ بنا لیا۔چنانچہ اس نے مزدک کے عقاید اختیار کر لیے۔اور اس تحریک کونہ صرف تقویت حاصل ہو گئی بلکہ اس نے سیاسی رنگ اختیار کر لیا۔لوگ دلیر ہو گئے۔اشتراکیت کا پر چار ہونے لگا۔نتیجہ یہ ہوا کہ ہر