مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 25 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 25

25 جگہ کسانوں نے بغاوتیں برپا کیں۔لوٹ مار کرنے والے امراء کے محلوں میں گھس جاتے اور مال واسباب لوٹ لیتے تھے ، عورتوں کو پکڑ کر لے جاتے تھے اور جاگیروں پر قبضہ کر لیتے تھے۔زمینیں رفتہ رفتہ غیر آباد ہونے لگیں۔اس سے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ ابتری کس حد تک پھیل چکی تھی۔قباد نے شروع میں مزد کیوں کو اپنی حمایت میں اس لیے لیا تھا کہ اس طرح وہ اُمرا کے اقتدار کو ختم کرنا چاہتا تھا لیکن اب صورت حال بے قابو ہوتی دیکھی تو مزدکیوں سے بیزار ہو گیا۔آخر جب مزد کیوں نے یہ کوشش کی کہ نوشیرواں کے بڑے بھائی کا ؤس کو شاہ قباد کا جانشین مقرر کیا جائے جو مزدکیوں کا پُر جوش حامی تھا تو قباد کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا۔قباد نے مزدکیوں کو نیچا دکھانے کے لیے ایک مذہبی کا نفرنس منعقد کی جس میں مزدکیوں کے سر کردہ رہنماؤں کو مناظرے کی دعوت دی گئی۔قباد نے اس میں خاصی دلچسپی لی۔نوشیرواں اب ولی عہد سلطنت مقرر ہو چکا تھا۔اس کے لیے مزدکیوں کا گروہ سب سے بڑے خطرے کا باعث تھا۔اس لیے اس نے اس کا نفرنس میں سر گرمی سے حصہ لیا۔وہ چاہتا تھا کہ مزد کی مناظرے میں شکست کھائیں۔مزد کی پیشواؤں سے زرتشتی عالموں نے مذاکرہ کیا جس میں مزدکیوں کو شکست ہوئی۔شکست کا اعلان ہونا تھا کہ سپاہی مزد کیوں پر ٹوٹ پڑے اور ان کا قتل عام شروع ہو گیا۔مزد کی پیشوا سب کے سب مارے گئے۔ان میں خود مزدک بھی تھا۔ان سب کی جائیدادیں ضبط کرلی گئیں اور مزد کی خطرے کا خاتمہ ہو گیا۔مزدکیت اگر باقی رہی بھی تو اس کی حیثیت خفیہ مذہب کی سی ہو کر رہ گئی۔19 مزد کیہ فرقه شیعه تیسری صدی ہجری کے شیعہ مولف ابو محمد الحسن موسی البغدادی نے اپنی کتاب ” فرق الشیعہ“ میں انکشاف کیا کہ شیعوں میں نہ صرف ایسے غالی فرقے پیدا ہو چکے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی دونوں کو خدا سمجھتے ہیں بلکہ مزد کیہ فرقہ بھی موجود ہے۔20 ”علامہ السید محمد صادق آل بحر العلوم “ نے اس مقام پر کتاب کے حاشیہ میں واضح کیا ہے کہ مزد کیہ مزدک کے پیروکار تھے جو نو شیر واں کے والد قباد کے زمانہ میں ظاہر ہوا۔مزدک کا دعویٰ تھا کہ اس پر ویستا و کتاب نازل ہوئی۔مزد کی محرمات کو جائز سمجھتے تھے اور اشتراکی مذہب رکھتے تھے یعنی اُن کا نظریہ تھا کہ تمام مردوزن اموال میں برابر کے شریک ہیں۔