مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 23
23 دے تاکہ ہر نسل اپنے سے پہلی نسل کو من حیث الکل اپنے ماں باپ سمجھے۔اس کی خواہش تھی کہ شیخ خاندانوں کو مٹاکر ریاست کے دو اعلیٰ طبقوں (حکمران۔فوج) کو بس ایک خاندان بنادے۔14 افلاطون کی کتاب کا نام Plato Republic ہے جس کا ترجمہ ڈاکٹر ذاکر حسین صاحب کے قلم سے ”ریاست“ کی شکل میں پہلی بار قیام پاکستان سے برسوں قبل شائع ہوا تھا۔افلاطون کو اقبال کی قدیم ممدوح شخصیات میں سر فہرست سمجھنا چاہیے۔چنانچہ وہ افلاطون اور قرآن کی تعلیم میں ہم آہنگی کا فلسفہ پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔قرآن، مذہب، ریاست، اخلاقیات اور سیاسیات میں اُسی طرح ایک باہمی ربط بہت ضروری خیال کرتا ہے جس طرح افلاطون نے اپنی تصنیف ” ریاست میں بیان کیا ہے۔15 سر اقبال کا یہ مقالہ 1908ء میں لوزاک اینڈ کمپنی 46 گریٹ رسل اسٹریٹ لنڈن سے زیر عنوان 16 "15 The Development of Metaphysics in Persia شائع ہوا۔جناب تصدق حسین تاج (حیدرآباد دکن) نے 1936ء میں اس کتاب کا اردو ترجمہ فلسفہ عجم کے نام سے شائع کیا۔پیغمبر اشتراکیت ظہور اسلام سے ذرا قبل ایرانی فلسفی مزدک نے (487-538ء) دعوی پیغمبری کر کے ایک نئے مذہب کی بنیا در کبھی جس کی روح رواں افلاطون ہی کا فلسفہ اشتراکیت تھا۔سر اقبال نے اپنے مقالہ The Development of Metaphysics in Persia میں مزدک کو اشتراکیت کا پہلا پیغمبر تسلیم کیا ہے اور لکھا ہے اس کی نگاہ میں تمام انسان مساوی ہیں اور انفرادی جائیداد کا تصور مخالف دیوتاؤں کا پیش کردہ ہے جن کا مقصد یہ ہے کہ خدا کی کائنات کو لا محدود تباہی کا منظر بنا دیں۔17 حضرت علامہ ابن حزم اندلسی (وفات 1063ء) فرقہ مزد کیہ کا تعارف کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔مجوس روشنی، آگ اور پانی کی تعظیم کرتے ہیں سوائے اس کے کہ وہ زر دشت کی نبوت کا اقرار کرتے ہیں اور اپنی شریعت کو زر دشت کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ان میں ایک فرقہ مزد کیہ ہے یہ لوگ مزدک کے متبع ہیں جو مجوسیوں میں ایک مذہبی پیشوا گزرے ہیں۔ایسے پیشواؤں کو ان کی اصطلاح میں موبد کہتے ہیں۔“ پیروان فرقہ مزدکیہ کا فلسفہ یہ ہے کہ ہر شخص جو کمائے، اکتساب کرے۔اس میں سب کا حق