مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 313 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 313

313 کو جلا وطن کیا گیا۔۔۔۔یہ سب سٹالنسٹ نظام حکومت کی نوکر شاہانہ حکمرانی کا خوفناک نتیجہ تھا۔“ (صفحہ 187) سٹالن کے اقدامات ساری بیورو کریسی کے لئے خطرہ بن رہے تھے۔صرف یہی بات نہیں کہ وہ بالائی پرت کو قتل کرنے کے درپے تھا۔سوویٹ یونین نے ابھی بمشکل جنگ کی تباہ کاریوں سے بحال ہونا شروع کیا تھا۔اسے ایک اور تطہیر کے انتشار اور پاگل پن کی نذر کرنے کے انتہائی تباہ کن اثرات مرتب ہوئے تاہم 5 مارچ 1953ء کو اچانک سٹالن کا انتقال ہو گیا۔“ (صفحہ 396) کامریڈ ٹیڈ گرانٹ نے اپنی کتاب میں سٹالین کے بعد بر سر اقتدار آنے والے ظالم اور سفاک حکمرانوں کے ” فرعونی کارناموں پر بھی روشنی ڈالی ہے چنانچہ خروشچیف حکومت کی نسبت لکھا ہے: اس جابرانہ نظام نے نوجوانوں پر شدید اثرات مرتب کئے جنہوں نے نام نہاد کمیونسٹ پارٹی کی آمرانہ حکمرانی کے خلاف کھلی تشکیک اور بد گمانی کا اظہار کرناشروع کر دیا۔سوویٹ ویکلی نے آٹھ نومبر 1990ء کو ایک جائزہ شائع کیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سوویت یونین کے صرف 14 فیصد نوجوان سی پی ایس یو پر ایمان رکھتے ہیں۔سکولوں میں ان پر مارکسزم لینن ازم کی جو مضحکہ خیز شکل مسلط کی جاتی تھی، وہ اس کے خلاف رد عمل کا اظہار کرتے تھے۔اسی جائزے میں یہ شرمناک دعوی بھی کیا گیا کہ ان کی صرف 15-20 فیصد تعداد سوشلزم پر یقین رکھتی ہے۔۔۔۔ان کا پالا صرف اس کی بے جان اور دماغ کو سن کر دینے والی مضحکہ خیز نقل سے ہی پڑا تھا۔ان کے علم میں آنے والا واحد ”سوشلزم ایک آمرانہ عفریت تھا۔“(صفحہ 454) بالشویکی روس کے سب دعاوی جس طرح ریت کے گھروندے ثابت ہوئے اور اس کی ٹوٹ پھوٹ نے عالمی سطح پر جو تباہی مچادی ہے، اس کا نقشہ کامریڈ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔تجربے نے ثابت کیا ہے کہ سوویت یونین کی ٹوٹ پھوٹ تمام قومیتوں کے لئے تباہی کا پیغام لائی ہے۔“ (صفحہ 517) ”سارے جہان کی خرابیاں روس کے حصے میں آئیں یعنی نوکر شاہانہ گھپلے اور بد انتظامی اور ایک بد عنوان اور غنڈہ گردی پر مبنی سرمایہ داری کی تمام تر خامیاں۔“ (صفحہ 553) کئی دہائیوں کی آمرانہ حکمرانی کے بعد سٹالن ازم کی طرف واپسی کے سلسلے میں دو