مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 314
314 کوئی جوش و خروش نہیں پایا جاتا تھا۔عوام انتشار، بدعنوانی اور بدمعاشی، روسی بورژوازی کے عمومی گھٹیا پن سے جس کی ریاستی اداروں کی لوٹ کھسوٹ کو فنانشل ٹائمز نے بھی اس صدی کی سب سے بڑی چوری قرار دیا تھا۔“ (صفحہ 597) کامریڈ ٹیڈ گرانٹ نے مستقبل کی نسبت یہ رائے دی ہے کہ : روس کی قسمت ایک ڈوری سے لٹک رہی ہے جو بالآخر ٹوٹ جائے گی۔میلسن اور چبائس بے رحمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مزدوروں کی اجرتیں ادا کرنے سے انکار کر کے بجٹ کو متوازن بنانے کا ڈرامہ رچا رہے ہیں۔سماجی تصادم کے لئے یہ ایک آزمودہ فارمولا ہے ایک مخصوص مرحلے پر مایوسی اور بے دلی شدید غصے میں تبدیل ہو جائے گی۔“ ( صفحہ 726) الغرض کارل مارکس، لینن اور ٹراٹسکی کے پرستار پون صدی بعد جس نتیجہ پر پہنچے ہیں خدا کے مسیح نے 1882ء میں اس کی نشان دہی کر دی تھی اور قبل از وقت انتباہ فرما دیا تھا کہ ” خدائی قانون کے مقابل جو نظام بھی قائم ہوتا ہے اگر کچھ دن چلے بھی تو چند ہی روز میں طرح طرح کے مفاسد پیدا ہو جاتے ہیں اور بجائے خیر کے شر کا موجب ہو جاتا ہے۔خلفائے احمدیت اور سوشلزم سید نا حضرت مصلح موعود خلیفتہ المسیح الثانی کے زمانہ خلافت میں زار روس سے متعلق خدا کا قہری نشان رو نما ہوا۔سرخ روسی انقلاب آیا اور پنڈت نہرو کی سکیم کے مطابق مجلس احرار اسلام نے جماعت احمدیہ کی مخالفت کا بیڑہ اٹھایا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے سوشلزم کی نسبت 1942ء اور 1945ء میں سوشلزم اور اشتراکیت جیسی ملحد تحریکوں پر فاضلانہ لیکچر دیئے جو نظام نو اور اسلام کا اقتصادی نظام کے نام سے قیام پاکستان سے قبل چھپ گئے اور کئی زبانوں میں ترجمہ ہو کر خراج تحسین حاصل کر چکے ہیں خصوصاً ہسپانوی ترجمہ نے وہاں کے اونچے طبقوں پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔حضرت مصلح موعود ایشیا میں ہی نہیں دنیا بھر کے واحد مذہبی پیشوا ہیں جنہوں نے خدا سے علم پاکر سوشلزم اور کمیونزم کے عبرتناک زوال کی اس وقت خبر دی جب یہ تحریکیں عالمی رفعتوں کی آخری حدوں کو چھورہی تھیں۔چنانچہ فرمایا: 1:- ” کمیونزم انسان کو انسان نہیں بلکہ ایک مشین سمجھتا ہے۔۔۔۔۔مگر یہ مشینری