مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 293 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 293

293 مطلب کو نہیں سمجھ سکے ، میں انہیں تربیت دوں گا۔اب (خورشید حسن) میر صاحب فرماتے ہیں کہ اصطلاحوں کا جھگڑ اپارٹی میں انتشار پیدا کرنے کے لئے کھڑا کیا جارہا ہے۔ہمارا نصب العین باکل واضح ہے۔ایک اسلامی ملک میں سوشلزم اور وہ بھی ”مساوات محمد می“ کے نام پر۔اب اس تضاد کو مسٹر بھٹو ہی دور کر سکتے ہیں۔سوشلزم چین، روس، یوگوسلاویہ اور روسی سامراج کے زیر نگین مشرقی یوروپ کے ممالک میں رائج ہے۔سوشلزم صرف اقتصادی نظام نہیں۔اسلام کی طرح مکمل ضابطہ حیات ہے۔اس کے لوازمات میں ایک مخصوص ظاہر ہے یہ سب سنگل پارٹی نظام حکومت بھی شامل۔کچھ ”مساوات محمدی کے نام پر نافذ نہیں ہو سکتا۔”مساوات محمدی“ کے نام پر تو ” اسلامی مساوات کا نفاذ ہی ممکن ہے۔چیئر مین بھٹو کو اب یہ ابہام فوراً دُور کر دینا چاہیئے کہ ان کا اور ان کی پارٹی کا نصب العین کیا ہے ؟ لوگ انہیں جانتے ہیں۔میر صاحب کو نہیں۔ہم سرمایہ داروں اور ان کے ایجنٹوں پر لعنت بھیجتے ہیں۔اسلام نہ سرمایہ داروں کا مذہب ہے نہ ان کے ایجنٹوں کا ہے۔“5 5" پاکستان کو سوشلسٹ ملک بنانے کا اعلان وزیر اعظم بھٹو صاحب نے ایوان سے 7 ستمبر کی قرار داد منظور کراتے ہی قومی اسمبلی کو بتایا کہ نوے سالہ مسئلہ حل ہو گیا ہے۔اب ہم اپنی پارٹی کے بنیادی اصول کے مطابق پاکستان کوسوشلسٹ ملک بنانے میں کوئی دقیقہ فرد گزاشت نہیں کریں گے۔چنانچہ انہوں نے کہا: ”ہمارا دوسرا اصول یہ ہے کہ جمہوریت ہماری پالیسی ہے۔چنانچہ ہمارے لئے فقط یہی درست راستہ تھا کہ ہم اس مسئلہ کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیش کرتے۔اس کے ساتھ ہی کہہ سکتا ہوں کہ ہم اپنی پارٹی کے اس اصول کی بھی پوری طرح پابندی کریں گے کہ پاکستان کی معیشت کی بنیاد سوشلزم پر ہو۔ہم سوشلسٹ اصولوں کو تسلیم کرتے ہیں۔“6 آئینی اغراض کی قانونی اصطلاح جناب بھٹو صاحب نے نئی قرار داد کو جمہوریت کی ٹکسال میں ڈھالتے ہوئے ان الفاظ کا اضافہ کرایا تھا کہ احمدی آئین و دستور کی اغراض کے لئے ”ناٹ مسلم ہیں۔