مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 292
292 گرد جمع ہو جاتے ہیں۔وہ اپنی بھیک کے ٹکڑوں کو جمع کرتے رہتے ہیں۔جب لوٹتے ہیں تو ان ٹکڑوں کو برابر بانٹ لیتے ہیں اور اس حیلہ سے لوگوں سے وصول کرتے رہتے اور ان کے اموال پر ڈاکہ ڈالتے رہتے ہیں۔2 اسی امر کو اردو لغت میں جنگ زرگری کہتے ہیں۔چنانچہ مولوی سید احمد دہلوی نے اپنی مشہور عالم اردو لغت ” فرہنگ آصفیہ میں جنگ زرگری کی تشریح میں لکھا ہے۔جھوٹ موٹ کی لڑائی۔وہ مصلحت کی لڑائی جو دشمن کو دھوکہ دینے کے واسطے بغیر از عداوت لڑیں۔سازشی لڑائی جس طرح پتنگ بازی میں غوطم چارہ یا کشتی میں کمالہ ہوتا ہے۔“ 1974 ء کی شورش کا بھی بالکل یہی حال تھا۔احراری مل 1953ء کی طرح (بقول مودودی صاحب) تحفظ ختم نبوت کا سہرا صرف اپنے سر پر باندھنا چاہتے تھے۔دوسری طرف مسٹر بھٹو وزیر اعظم اور ان کی پارٹی اسے اپنا فقید المثال کارنامہ ظاہر کر کے اگلے انتخابات جیتنا چاہتی تھی جیسا کہ ان کے وزیر مذہبی امور جناب کوثر نیازی کا بیان ہے کہ ”مسٹر بھٹو احمدی مسئلے پر قومی اسمبلی کا فیصلہ کرانے کے بعد انتخابات کے نقطہ نظر ہی سے سوچ رہے تھے۔“3 خالص اس سیاسی مصلحت کی بناء پر بھٹو صاحب نے آئین میں شامل صدر اور وزیر اعظم کے لئے مجوزہ حلف کے ایک حصہ کو دستوری الفاظ میں ڈھال لیا اور اسمبلی میں احمدیوں کے ناٹ مسلم ہونے کی قرار داد پاس کرالی گئی۔تاہم جناب بھٹو صاحب نے اپنی جمہوریت پسندانہ پالیسی کی دھاک بٹھانے کے لئے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ یہ فیصلہ محض ان معنوں میں مذہبی ہے کہ یہ پاکستان کی مسلم اکثریت کا فیصلہ ہے جو عوام کی امنگوں کے مطابق کیا گیا ہے۔ساتھ ہی انہوں نے بانگ دہل اعلان کیا کہ ہم سوشلزم کے اقتصادی اصولوں کو اپنائے ہوئے ہیں۔اس وضاحت سے یہ حقیقت بالکل بے نقاب ہو جاتی ہے کہ مسٹر بھٹو وزیر اعظم پاکستان اور ان کی حکومت نے 7 ستمبر کی قرارداد کا سارا ڈرامہ سوشلزم کے اصول کی تعمیل میں رچایا تھا جس کا اسلام اور قرآن وسنت سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔اگر چہ بھٹو صاحب نے سوشلزم کو ” مساوات محمدی“ کا نام دے رکھا تھا مگر یہ محض فراڈ تھا جیسا کہ انہی دنوں روزنامہ نوائے وقت“ لاہور نے اپنے اداریہ میں لکھا:- 4" شمالی علاقوں کے حالیہ دورے کے دوران مسٹر بھٹو نے کہا تھا کہ ہمارے اسلامی سوشلزم کا مطلب ” مساوات محمدی“ ہے۔پارٹی کے جو کارکن یا لیڈر اس