مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 294 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 294

294 در اصل "آئینی و دستوری اغراض کی اصطلاح دنیا کے کانسٹی ٹیوشنز میں مروج ہے۔جس کا نمونہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور مجریہ 25 مارچ 1987ء میں بھی موجود ہے۔چنانچہ اس میں دفعہ 251(1) کے تحت لکھا ہے: پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور یوم آغاز سے پندرہ برس کے اندر اندر اس کو سرکاری و دیگر اغراض کے لئے استعمال کرنے کے انتظامات کئے جائیں گے۔(2) شق (1) کے تابع انگریزی زبان اس وقت تک سرکاری اغراض کے لئے استعمال کی جاسکے گی جب تک کہ اس کے اردو سے تبدیل کرنے کے انتظامات نہ ہو جائیں۔7 پھر باب پنجم میں زیر دفعہ 262 لکھا ہے۔” دستور کی اغراض کے لئے کسی مدت کا شمار گریگری نظام تقویم کے مطابق 8" کیا جائے گا۔“8 بالکل اس اصطلاح میں احمدی، اسمبلی پاکستان میں محض قانون و آئین کی اغراض کے لئے ” ناٹ مسلم “ قرار پائے جس کا مذہب اسلام سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں تھا۔یہ محض جمہوری اور سیاسی اور آئینی فیصلہ تھا جس کا مقصود صرف یہ تھا کہ اگر پاکستانی احمدی پارلیمنٹ میں اکثریت بھی حاصل کر لیں تو وہ صدر اور وزیر اعظم نہیں بن سکیں گے کیونکہ 1973ء کے آئین میں مشمولہ ”حلف نامہ “ ان کے لئے روک ہو گا۔قرارداد کا مقصد احرار لیڈروں کی نظر میں یہ ایسی واضح بات تھی کہ احرار لیڈروں نے 1973ء کے آئین میں صدر اور وزیر اعظم کے حلف ناموں کے اضافہ پر بعض عام جلسوں میں خود بتائی اور اس پر جشن مسرت مناتے ہوئے مسٹر بھٹو وزیر اعظم کو زبر دست خراج تحسین پیش کیا۔بطور نمونہ ایک خبر ملاحظہ ہو۔قادیانی اب کبھی اقتدار اعلیٰ پر قابض نہیں ہو سکتے “ مجلس تحفظ ختم نبوت کھرڑیانوالہ کے زیر اہتمام چک نمبر 100 رڑکا میں 14 اگست کو ایک جلسہ عام ہوا جس سے مجلس تحفظ ختم نبوت لائل پور کے مبلغ مولانا اللہ وسایا نے خطاب کرتے ہوئے موجودہ آئین میں ختم نبوت کے عقیدہ کو صدر اور وزیر اعظم کے حلف اور مسلمان کی تعریف میں شامل کرنے پر مسرت کا اظہار کیا اور اسے نیک شگون قرار دیا۔مولانا نے مفتی اعظم، مفتی محمود، مولانا نورانی، وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور صدر مملکت چوہدری فضل الہی کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ملک