مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 250 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 250

250 یادر ہے کہ علامہ اقبال جناب طاہرہ کے مقام و کلام سے بہت پہلے یعنی بیسویں صدی کے پہلے عشرے میں واقف ہو چکے تھے۔مثال کے طور پر بانگ درا کی نظم ”میں اور تو ملاحظہ ہو جس کا پہلا شعر ہے: نہ سلیقہ مجھ میں کلیم کا نہ قرینہ تجھ میں خلیل کا میں ہلاک جادوئے سامری تو قتیل شیوہ آزری یہ نظم قرۃ العین طاہرہ کی اس مشہور غزل کی بحر میں کہی گئی ہے جس کا بیت الغزل یہ شعر ہے: تو و ملک و جاه سکندری من درسم راه قلندری اگر آن نیکوست تو در خوری وگر این بد است مراسزا اقبال نے طاہرہ کے الفاظ ” سکندری “اور ” قلندری “ بھی اس نظم میں برتے ہیں۔بلکہ نظم کا عنوان بھی طاہرہ کے اس شعر سے لیا ہے: کہا گیا ہے: بگذر ز منزل ما ومن بگر نیں بملک فناوطن فاذا فعلت بمثل ذا فلقد بلعت بما تشاء 42 اسی طرح ” بال جبرئیل“ کی نظم ”جبرئیل و ابلیس کا یہ شعر بھی طاہرہ کی غزل کے تتبع میں خضر بھی بے دست و پا الیاس بھی بے دست و پا مرے طوفاں یم بہ یم دریا به دریا جو بہ جو 43 جس زمانے میں بہائی شاعر اور صحافی سید محفوظ الحق علمی لاہور ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے ، علامہ اقبال سے مسلسل ملاقاتیں کرتے رہے۔ان کی زبانی روایت ہے کہ لاہور ہوٹل کے سامنے روزنامہ ”زمیندار“ کا دفتر تھا۔میں زمیندار کے دفتر میں جاتا اور پھر مولانا ظفر علی خان کے ہمراہ علامہ کے پاس چلے جاتے۔علمی صاحب کی روایت ہے کہ علامہ اکثر کہا کرتے۔میں باب کو شارع اعظم مانتا ہوں۔44 اس زمانے میں پروفیسر پریتم سنگھ بھی علامہ سے برابر ملاقات کرتے رہے۔اس کے بعد بھی بہائی احباب آپ سے ملتے رہے۔اقبال بہائی تعلیمات کی طرف اس قدر راغب ہوگئے تھے