مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 251 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 251

251 کہ 1935ء میں وفات سے تین سال قبل یہ اعلان کر دیا تھا۔میرے نزدیک قادیانیت سے بہائیت زیادہ ایمان دار ہے۔45 علامہ اقبال بنیادی طور پر فلسفی تھے۔شاعر و مفکر ہونا ان کی ثانوی حیثیت ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ حق کی تلاش و جستجو میں رہے۔کچھ دیر کے لئے ایک چمکدار پتھر کو ہیر ا سمجھ لیا اور پھر اسے پھینک کر اصل ہیرے کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے اور آخر کار ان کو ماننا پڑا کہ امر بہائی حق ہے۔علامہ اقبال فرماتے ہیں۔۔۔۔۔فلسفہ کی روح ہے آزادانہ تحقیق۔وہ ہر ایسی بات کو شک وشبہ کی نظر سے دیکھتا ہے جس کی بناء ادعا اور تحکم پر ہو۔اس کا منصب یہ ہے کہ فکر انسانی نے جو مفروضات بلا جرح و تنقید قبول کر رکھے ہیں، ان کے مخفی گوشوں کا سراغ لگائے۔46 جناب بہاء اللہ 16 نومبر 1817ء کو ایران کے پایہ تخت طہران میں پید اہوئے اور یہیں پرورش پائی۔طہران نے آپ کے محل تولد ہونے کی وجہ سے عالم گیر شہرت پائی اور دنیا بھر کے اہل بہاء اس شہر کو بے حد احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔جناب بہاء اللہ شہر طہران کی عظمت اور اس کے مستقبل کے بارے میں کتاب ” الا قدس “ میں اس طرح فرماتے ہیں: ”اے طہران کی زمین! کسی چیز سے مغموم نہ ہو۔اللہ نے تجھے سب جہانوں کا مطلع فرح بنایا ہے۔جب خد ا چاہے گا تو تیرے تخت کو ایسے وجود سے بابرکت بنائے گا جو عدل کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور خدا کی ان بھیٹروں کو اکٹھا کرے گا جو بھیڑیوں کے ڈر سے پراگندہ ہو گئی ہیں۔وہ اہل بہاء سے مسرت و شادمانی سے ملے گا۔وہ خدا کے نزدیک مخلوق کا جوہر ہو گا۔اس پر ہر گھڑی خدا اور ملکوت الامر والوں کی طرف سے بہاء ہو۔تو خوش ہو کہ اللہ نے تجھ کو افق نور بنایا۔کیونکہ تجھ میں مطلع ظہور پیدا ہوا اور سجے وہ نام دیا گیا جس کے ذریعے سے آفتاب فضل چمک اٹھا اور آسمان وزمین روشن ہو گئے۔عنقریب تیرے سارے امور میں انقلاب آجائے گا اور تجھ پر جمہور کی حکومت ہوگی۔تیر ارب جاننے والا اور احاطہ کرنے ولا ہے۔اپنے رب کے فضل پر مطمئن رہ کیونکہ تجھ سے الطاف کی نظریں منقطع نہ ہوں گی۔اضطراب کے بعد تجھے اطمینان حاصل ہو گا۔کتاب بدیع میں اسی طرح فیصلہ کیا گیا ہے۔47" اقبال نے طہر ان کے بارے میں اس بشارت آسمانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: