مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 134
134 otherwise۔Over 90 millions in number they are in quantity and quality a sufficiently important element in Indian life to influence decisively all questions of administration and policy۔Nature has further helped them by concentrating them in certain areas۔"11 یعنی میں اس کا اعتراف کرتا ہوں کہ پاکستان کا لفظ ہی میری طبعیت قبول نہیں کرتی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کا ایک حصہ تو پاک ہے اور باقی نا پاک۔پاک اور ناپاک کی بنیاد پر کسی قطعہ ارض کی تقسیم قطعا غیر اسلامی اور روح اسلام کے بالکل منافی ہے۔اسلام اس طرح کی کوئی تقسیم قبول نہیں کرتا۔آنحضرت کا قول ہے کہ خدا نے ساری دنیا کو میرے لئے مسجد بنایا ہے۔علاوہ ازیں میں تو محسوس کرتا ہوں کہ پاکستان کی اسکیم شکست خوردگی کی ایک واضح علامت ہے۔اس کی تعمیر جس بنیاد پر رکھی گئی ہے وہ ہے یہودیوں کے قومی وطن کی مثال۔یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ ہندوستانی مسلمان ہندوستان کو بحیثیت مجموعی اپنا وطن نہیں بنا سکتے۔وہ صرف اس ٹکڑے پر قناعت کریں گے جو ان کے لئے مخصوص کر دیا گیا۔جہاں تک یہودیوں کے قومی وطن کا مطالبہ ہے اس سے ہمدردی کی جاسکتی ہے۔کیونکہ وہ ساری دنیا میں بکھرے ہوئے ہوئے ہیں اور کسی علاقہ میں بھی نظم وانصرام پر کوئی اثر نہیں رکھتے لیکن ہندوستانی مسلمانوں کی حالت اس سے بالکل مختلف ہے۔ان کی تعداد نوے ملین سے زیادہ ہے۔وہ کمیت اور کیفیت ہر لحاظ سے ہندوستانی زندگی کا ایک اہم عنصر ہیں۔وہ انتظام اور پالیسی کے ہر مسئلہ پر فیصلہ کن طور پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔قدرت نے ان کی مزید مد داس طرح کی ہے کہ بعض رقبوں میں ان کی اکثریت بھی ہے۔جہاں کانگرس کے سوشلسٹ بلاک کے لیڈر جواہر لال نہرو تھے وہاں رام راج کا علم قیادت مسٹر گاندھی کے ہاتھ میں تھا۔نہر وصاحب فرماتے ہیں: ”گاندھی جی۔۔۔۔اس زریں زمانہ کو اکثر رام راج کے نام سے تعبیر کرتے تھے۔“12 تحریک عدم موالات کے اثرات تحریک عدم موالات کے اصل قائد گاندھی تھے اور ان کی تحریک رام راج کی راہ ہموار کرنے کی غرض سے تھی۔مسلمانوں کے نظریات و افکار کی صف لپیٹ دی اور گاندھی پر ستی کا گہر ارنگ چڑھ