مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 125
125 پارٹی کا ممبر تھا اور برلن کے راستہ کابل پہنچا تھا۔وہ ریاست بھوپال کے ایک ملازم کا لڑکا تھا اور انگلستان، امریکہ اور جاپان کی سیاحت کر چکا تھا۔ٹوکیو میں وہ ہندوستانی زبان کا پروفیسر مقرر ہوا تھا۔وہاں اس نے برطانیہ کے خلاف سخت لب ولہجہ کا ایک اخبار جا ری کیا جس کا نام اسلامک فرنیٹر نٹی (اسلامی برادری) تھا۔حکومت جاپان نے اس اخبار کو بند کر کے اسے پروفیسری سے معزول کیا اور وہ جاپان چھوڑ کر امریکہ میں اپنی غدر برادری سے جا ملا۔1916ء کی ابتدامیں مشن کے جرمن ممبر اپنے مقصد میں ناکام ہو کر افغانستان سے چلے گئے۔ہندوستانی ممبر وہیں رہے۔اور حکومت موقتہ ( پروویژنل گورنمنٹ) نے روسی ترکستان کے گورنر اور زار روس کو خطوط بھیجے جن میں اُن سے بر طانیہ کا ساتھ چھوڑنے اور ہندوستان میں بر طانوی حکومت کا خاتمہ کرنے کے لئے امداد کی دعوت دی گئی تھی۔ان خطوط پر راجہ مہندر پرتاپ کے دستخط تھے اور یہ خطوط بعد میں برطانیہ کے ہاتھ میں آگئے۔زار کو جو خط لکھا گیا تھا وہ سونے کی سختی پر تھا۔7 مولوی عبید اللہ سندھی کے بھجوانے اور قیام کے سبھی انتظامات آل انڈیا نیشنل کانگریس کے رہین منت تھے۔سندھی صاحب اپنی مراجعت وطن کی نسبت لکھتے ہیں۔وو 1936 ء سے انڈین نیشنل کانگریس نے میری واپسی کے متعلق کوشش شروع کی۔مجھے یکم نومبر 1937ء کو اجازت واپسی وطن کی اطلاع ملی۔8 جناب سندھی صاحب اپنی زندگی کے آخری ایام میں بھی اس یقین سے لبریز تھے کہ احمدیوں کا مقابلہ مولویوں سے نہیں صرف سوشل ازم کے انقلاب سے ممکن ہے۔چنانچہ پر وفیسر محمد سرور سابق استاد جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی مولوی عبید اللہ سندھی کے حوالہ سے لکھتے ہیں: غلطی یہ ہوئی کہ ہمارے علمائے کرام نے احمدیت کو ایک اعتقادی مسئلہ بنا دیا اور اعتقادیات کی جنگ کبھی فیصلہ کن نہیں ہوتی کیونکہ اس میں تاویلوں کی بڑی گنجائش ہوتی ہے اور مرزا صاحب سے لے کر ایک عام مبلغ اور مناظر تک فن تاویل میں احمدیوں کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔۔۔۔احمدیت ایک سماجی مظہر (Phenomenon) ہے۔تحریک ختم نبوت جیسی تحریکیں نہ پہلے اُن کا کچھ بگاڑ سکی ہیں اور نہ آئندہ بگاڑ سکیں گی۔بلکہ ان سے الحاد، ربط وصلابت پیدا ہو گی۔جیسا کہ اب تک ہوا ہے۔