مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 126 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 126

126 احمدیت اور اس قسم کی دوسری علیحدگی پسند اور رجعت پسند اور استعمار دوست مذ ہبی تحریکوں سے ایک ترقی پسند سماج اور سیکولر اور سوشلسٹ سیاسی نظام ہی کامیابی سے عہدہ برآہو سکے گا۔اعتقادی ہتھیاروں سے یہ لڑائی نہیں لڑی جاسکتی۔“ مسلمانان ہند کی بغاوت سے بیزاری 9% یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ احمدی مسلمانوں کی طرح اکثر دوسرے مسلمانان ہند نے بھی ہندوؤں کی شورشوں کو سخت تنفر سے دیکھا اور وہ بحیثیت قوم ان سے الگ رہے جس کا ثبوت حسب ذیل سپاسنامہ سے ملتا ہے جو پراونشل مسلم لیگ کے اڑتالیس اصحاب کے ایک وفد نے یکم اپریل 1911ء کی شام کو یونیورسٹی ہال لاہور میں ہرا سیکسی لینسی دی رائٹ آنریبل چارلس بیرن ہارڈنگ وائسرائے و گورنر جنرل ہندوستان کی خدمت میں پیش کیا۔اس وفد کے علامہ اقبال بھی ممبر تھے۔”ہم اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی جرات کرتے ہیں کہ یورایکسی لینسی کو جو ہندوستان میں ہمارے نہایت مہربان فرمانروا کے نائب ہیں، اسلامی جماعت کی تاج برطانیہ کے ساتھ غیر متبدل وفا داری و جان شاری کا یقین دلائیں۔ہم در حقیقت ایسی شاندار سلطنت کی شہریت پر منتفخر ہیں۔۔۔۔پنجاب کے اہل اسلام نے ہمیشہ اس کو اپنا مقدس فرض سمجھا ہے کہ حکام کو امن و انتظام بر قرار رکھنے میں پوری مدد دیں اور انہوں نے بار بار نہ صرف الفاظ بلکہ افعال و اعمال کے ذریعہ سے برٹش مقصد کے ساتھ اپنی تمام تر دلی عقیدت کا کافی ثبوت دیا ہے۔جب گزشتہ چند سال میں ہندوستان کا پولیٹیکل مطلع اس صوبے میں بھی سیڈیشن (Sedition) اور بے چینی کے بادلوں سے مکدر ہو رہا تھا۔مسلمانوں نے کبھی ایک لمحے کے لئے بھی اپنی برٹش گورنمنٹ کی مستحکم عقیدت میں پس و پیش نہیں کیا۔“ ہم ایک بار پھر اپنی دلی نفرت کا اظہار ان انارکسٹوں کی کارروائیوں پر کرتے ہیں جنہوں نے گزشتہ سالوں میں اہل ہند کی بے عیب نیک نامی پر ایک بد صورت داغ لگا دیا ہے اور بہ نظر انار کسٹانہ جرائم کے پھر پھوٹ پڑنے کے جیسا کہ کلکتہ میں حال کے جرائم سے ظاہر ہوا ہے، ہم قومی فرض سمجھتے ہیں کہ اس شرمناک تحریک پر اپنی زور دار ناراضگی کا اظہار کریں جس کا نتیجہ یہ خوفناک جرائم ہیں۔10