مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 124
124 تجویز پر ہمارے نوجوان آتے جاتے رہے۔جب ماسکو میں ہندوستانی اشتراکی حکومت قائم ہوئی اور اس کا مرکز تاشقند قرار دیا گیا تو اس کے لیڈر جو بند رناتھ رائے مقرر ہوئے جو اسے کئی سال تک چلاتے رہے۔اس لئے ہمارے دوست بن گئے اب ہم۔۔۔۔دریائے جیحوں ترمذ میں سوویٹ کا رندوں کے مہمان ہوئے اور دنیا کی انٹر نیشنل سیاست کا نیا مشاہدہ شروع کر دیا۔5 مولوی عبید اللہ سندھی اپنی ذاتی ڈائری میں لکھتے ہیں: ”1923ء میں ترکی جاتا ہو ا سات مہینہ ماسکو میں رہا۔سوشلزم کا مطالعہ اپنے نوجوان رفیقوں کی مدد سے کرتا رہا۔چونکہ نیشنل کانگریس سے تعلق سرکاری طور پر ثابت ہو چکا تھا۔اس لئے سوویٹ روس نے اپنا معزز مہمان بنایا اور مطالعہ کے لئے ہر قسم کی سہولتیں بہم پہنچائیں۔یہ غلط ہے کہ میں لینن سے ملا۔کامریڈ لین اس وقت ایسا بیمار تھا کہ اپنے قریبی دوستوں کو بھی نہیں پہچان سکتا تھا۔6" میرے اس مطالعہ کا نتیجہ ہے کہ میں اپنی تحریک کو جو امام ولی اللہ دہلوی کے فلسفہ کی ایک شاخ ہے، اس زمانے کے لادینی حملے سے محفوظ کرنے کی تدابیر سوچنے میں کامیاب ہوا۔میں اس کامیابی پر اول انڈین نیشنل کانگریس، دوم اپنے ہندوستانی نوجوان رفقاء جن میں ہندو بھی شامل ہیں اور مسلمان بھی، سوم سویٹ روس کا ہمیشہ ممنون اور شکر گزار رہوں گا۔اگر ان طاقتوں کی مدد مجھے نہ ملتی تو میں اس تخصص اور امتیاز کو کبھی حاصل نہ کر سکتا۔“6 یہاں مناسب ہو گا کہ غدر پارٹی کی مجوزہ انڈر گراؤنڈ حکومت کے صدر مہندر پر تاپ کی کہانی برٹش گورنمنٹ کی مستند رواٹ رپورٹ سے معلوم کر لی جائے۔رپورٹ میں لکھا ہے: " یہ شخص ایک معزز خاندان کا جو شیلا ہندو ہے۔1914ء کے اخیر میں اسے اٹلی، سوئٹزرلینڈ اور فرانس جانے کا پاسپورٹ دیا گیا۔یہ سیدھا جنیوا گیا اور وہاں سے بد نام زمانہ ہر دیال سے ملا۔ہر دیال نے اسے جرمن قونصل سے ملایا۔وہاں سے یہ برلن آیا۔بظاہر اس نے وہاں جرمنوں کو اپنی اہمیت کے مبالغہ آمیز تصور سے متاثر کیا اور اسے ایک خاص مشن پر کابل بھیجا گیا۔خود مولانا عبید اللہ کو وزیر ہند اور مولانا برکت اللہ کو وزیر اعظم بننا تھا۔مولانا برکت اللہ کر شناور ما کا دوست اور امریکن غدر وو