مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 3 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 3

3 کہ وہ عیسائیوں اور انگریزوں کو اپنی حدود میں جہاں پائیں، قتل کر دیں۔9 مارچ 1858ء کو بہادر شاہ ظفر نے تحریری بیان دیا کہ غدر کا اُن سے کوئی تعلق نہیں۔سب بغاوت میر ٹھ کے مفسد بلوائیوں نے برپا کی۔انہوں نے مجھے بھی قید کر لیا۔خود احکام لکھ کر مجھے مہر ثبت کرنے پر مجبور کرتے تھے چنانچہ انہوں نے فرمایا۔”میں نے کبھی اُن کی کانفرنس میں شرکت نہیں کی۔انہوں نے اس طرح بدوں میری مرضی یا خلاف حکم میرے ملازموں ہی کو نہیں لوٹا بلکہ کئی محلوں کولوٹ لیا۔چوری کرنا، قید کرنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا اور جو جی چاہتا تھا کر گزرتے تھے۔جبر أمعزز اہل شہر سے اور تجار سے جتنی رقم چاہتے وصول کرتے تھے اور یہ مطالبات اپنی ذاتی اغراض کے لئے کرتے تھے۔جو کچھ گزرا ہے وہ سب مفسدہ پر داز فوج کا کیا دھرا ہے۔میں اُن کے قابو میں تھا اور کر کیا سکتا تھا؟ وہ اچانک آپڑے اور مجھے قیدی بنالیا۔میں لاچار تھا اور دہشت زدہ۔جو انہوں نے کہا میں نے کیا وگرنہ انہوں نے مجھے کبھی کا قتل کر ڈالا ہوتا۔اسی لئے میں نے فقیری کا تہیہ کر لیا تھا اور گیر وے رنگ کی صوفیانہ پوشاک پہنی شروع کر دی تھی۔پہلے قطب صاحب کی درگاہ۔وہاں سے اجمیر شریف اور اجمیر شریف سے بالآخر مکہ معظمہ جانے کا عزم تھا لیکن فوج نے مجھے اجازت نہیں دی۔جس نے میگزین و خزانہ لوٹا۔یہ سپاہ ہی تھی جو چاہا کیا۔۔۔۔باغی فوج کی عادتوں کی نسبت معلوم ہو کہ انہوں نے مجھے کبھی سلام تک نہیں کیا۔نہ میر اکسی قسم کا ادب و لحاظ کیا۔وہ دیوان خاص و دیوان عام میں بے دھڑک جو تیاں پہنے چلے آتے تھے۔میں ان فوجوں پر کیا اعتبار کرتا جنہوں نے اپنے ذاتی آقاؤں کو قتل کر دیا۔جس طرح انہوں نے ان کو قتل کیا مجھے بھی مقید کر لیا۔مجھ پر جور کئے، مجھے حکم میں رکھا اور میرے نام سے فائدہ اٹھایا۔۔۔۔میں بے فوج، بے خزانہ، بے سامان جنگ، بے تو پخانہ کیونکر انہیں روک سکتا تھا یا ان کے خلاف صدائے احتجاج بلند کر سکتا تھا؟ لیکن میں نے کبھی کسی طرح ان کی مدد نہیں کی۔میں نے فوراً اپنے آپ کو گور نمنٹ کی حفاظت میں دے دیا۔باغی فوجیں مجھے اپنے ہمراہ لے جانا چاہتی تھیں مگر میں نہ گیا۔“ شاہ نے تحریری بیان کے آخر میں تحریر فرمایا: