مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 4
4 مذکورہ بالا جواب میرا خود تحریر کیا ہوا ہے اور بلامبالغہ ہے۔حق۔اصلاً انحراف نہیں کیا ہے۔خدا میرا عالم و شاہد ہے کہ جو کچھ بالکل صحیح تھا، جو کچھ مجھے یاد تھا، وہ میں نے لکھا ہے۔شروع میں میں نے آپ سے حلفیہ کہا تھا کہ میں بغیر بناوٹ اور بغیر ملاوٹ کے وہی لکھوں گا جو حق اور راست ہو گا۔چنانچہ ایسا ہی میں نے کیا دستخط بہادر شاہ بادشاه 2 ہے۔یہ مقدمہ ایک فوجی کمیشن کے تحت تھا جس کا پریذیڈنٹ لیفٹینٹ کرنل ڈاس افسر توپ خانہ تھا۔دوران مقدمہ 8 فروری 1858ء کو سر تھیو فلس میٹ کاف نے عدالت میں حلفیہ گواہی دی کہ غدر سے چند روز قبل جامع مسجد دہلی کی دیوار پر میلے سے کاغذ کا ایک چھوٹا ٹکڑا چسپاں کیا گیا جس کا مضمون یہ تھا کہ شاہ ایران عنقریب اس ملک میں آنے والے ہیں اور انہوں نے تمام مسلمانوں کو ، کافر انگریزوں کو فنا کرنے کی دعوت کی ہے۔جو لوگ اسمیں شامل ہوں گے اجر عظیم کے مستحق ہوں گے۔بیان کیا جاتا ہے کہ اشتہار دیکھ کر دہلی کے پانچ سو مسلمانوں نے جہاد کرنے کی آمادگی ظاہر کی تھی۔یہ اشتہار رات کے وقت تقریبا تین گھنٹہ تک چسپاں کیا گیا۔صبح کے وقت اس کے پاس آدمیوں کا ہجوم لگ رہا تھا اور جب میں نے سناتو جا کر اُتار ڈالا۔عام خیال تھا کہ کسی بد معاش نے چسپاں کر دیا ہو گا۔3 بہادر شاہ ظفر کے ہند و سیکرٹری مکند لال اور چینی لال اخبار نویس نے عدالت میں مغل تاجدار کے خلاف گواہیاں دیں اور قتل وغارت کی ذمہ داری اس بے گناہ اور مظلوم بادشاہ پر ڈال دی۔چنانچہ اس نے بیان دیا کہ قلعہ دہلی میں محصور معصوم لیڈیوں اور بچوں کا قتل بادشاہ کی اجازت سے ہوا اور سنبت علی خان نے چلا کر کہا کہ بادشاہ نے قیدیوں کے قتل کئے جانے کی اجازت دی ہے جس کے بعد بادشاہ کے مسلح سپاہی زیر حراست قیدیوں کو مقتل تک لے گئے اور باغی فوجیوں سے مل کر غریب قیدیوں کو قتل کر دیا گیا۔مکند لال نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا۔4" ”جو نہی باغی آئے مسلمان فی الفور اُن سے مل گئے۔“ اسی طرح چنی لال اخبار نویس سے پوچھا گیا کہ انگریزوں کو کس کے حکم سے قتل کیا گیا تھا تو 5" اُس نے جواب دیا ” بادشاہ کے حکم سے ہوا تھا اور کون ایسا حکم دے سکتا تھا۔“5 9 مارچ 1858ء کو بہادر شاہ ظفر کی تحریری شہادت کے معابعد فریڈ جے ہیرائٹ ڈپٹی حج ایڈووکیٹ جنرل ووکیل سرکاری نے اپنی بحث میں ہندوؤں کی انہیں گواہیوں پر سب سے زیادہ زور دیا