مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 2
2 ہندوستان کی حکومت براہ راست تاج برطانیہ کے ماتحت کر دی گئی اور اس کا انتظام ایک وزیر ہند کے سپر د ہوا۔حکومت انگلستان نے کمپنی کا قرضہ اپنے ذمہ لے لیا۔بڑی اور بحری سپاہ سرکار کی ملازمت میں منتقل ہو گئی اور ہندوستان کی کل آمدنی کے خرچ کا اختیار وزیر ہند اور اس کی کونسل کو سونپ دیا گیا۔مورخ پاکستان مولوی محمد شفیع صاحب ایم۔اے۔”تاریخ ہند“ حصہ دوم کے صفحہ 191 تا 193 میں تحریر فرماتے ہیں: ملکہ معظمہ وکٹوریہ نے غدر کے واقعات سے متاثر ہو کر ایک اعلان کیا جو اعلان قیصری کے نام سے موسوم ہے۔یہ اعلان تاریخ ہند میں بہت اہمیت رکھتا ہے اور ہندوستان کی آزادی کا چارٹر کہلاتا ہے۔اس میں ملکہ معظمہ وکٹوریہ کی وہ تمام مراعات درج ہیں جو اس نے ہندوستان کی بہبودی کے لئے عطا کیں۔“ یکم نومبر 1858ء کوالہ آباد کے مقام پر لارڈ کینٹنگ (Lord Canning) نے جو ہندوستان کا پہلا وائسرائے مقرر ہوا، ایک شاہی دربار منعقد کیا جس میں یہ اعلان پڑھ کر سنایا گیا۔مابدولت کی طرف سے والیان ریاست کو متبنے بنانے کا اختیار دیا جاتا ہے۔ان کے جو معاہدے کمپنی کے ساتھ تھے وہ بر قرار رہیں گے۔رعایا کو اپنے مذہبی معاملات میں پوری آزادی حاصل رہے گی۔حکومت کی طرف سے ان میں کسی قسم کی مداخلت نہ ہو گی۔ہندوستان جب اس قابل ہو جائے گا کہ وہ اپنا انتظام آپ کر سکے تو اسے حکومت خود اختیاری عطا کی جائے گی۔قانون ملکی امیر وغریب پر یکساں حاوی ہو گا۔سرکار کے نزدیک انگریز۔عیسائی۔ہندو۔مسلمان۔سکھ سب یکساں ہیں۔ان باغیوں کو جنہوں نے قتل میں اقدام نہیں کیا، غیر مشروط معافی دی جائے گی۔ملک کی بہبودی اور امن کا ہر وقت خیال رکھا جائے گا۔ملازمتیں خواہ انگریز ہوں یا ہندوستانی، ان کی قابلیت کے مطابق عطا کی جائیں گی۔اعلان قیصری کے بموجب ہندوستان کی عنان حکومت براہ راست حکومت برطانیہ کے ہاتھ میں آگئی۔1 غدر کی آگ فرو ہونے کے بعد آخری مغل تاجدار کے خلاف فوجی عدالت دیوان خاص قلعه میں زیر ایکٹ 16۔1857ء مقدمہ چلایا گیا۔27 جنوری 1858ء کو پہلا اجلاس ہوا جس میں فرد قرار داد جرم یہ عائد کی گئی کہ بغاوت کے دوران انہوں نے انگریز افسروں اور برطانوی رعایا کے، جس میں بے گناہ اور معصوم بچے بھی شامل تھے، قتل میں مدد دی اور والیان ریاست کے نام احکام جاری کئے