مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 46
92 مسلم نوجوانوں کے کارنامے 91 مسلم نوجوانوں کے کارنامے موجودہ زمانہ کے لحاظ سے ایک ضروری سبق صحابہ کرام کے نوجوان طبقہ کی ایمانی غیرت کی جو چندا مثلہ بطور نمونہ پیش کی گئی ہیں ان میں ہمارے موجودہ زمانہ کے لحاظ سے بہت سے اسباق ہیں۔ان مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ دین کے معاملہ میں وہ نازک سے نازک تعلقات کو بھی فوراً فراموش کر دیتے تھے۔جب مذہب اور دین کا سوال درمیان میں آجاتا تو باپ کو بیٹے کی ، اور بیٹے کو باپ کی ، بیوی کو خاوند کی ، اور خاوند کو بیوی کی پروانہ نہ رہتی تھی۔اور صرف یہ مدنظر ہوتا تھا کہ دین کے اقتضاء کو باحسن صورت پورا کیا جائے۔اسے پورا کرنے میں کوئی تعلق ان کی راہ میں حائل نہ ہوتا تھا۔دین کے مفاد کے خلاف کوئی اقدام کرنے کی صورت میں بیٹا خود تلوار ہاتھ میں لے کر باپ کی گردن اڑا دینے کے عزم کا اعلان کر دیتا تھا۔اور باپ تمام پدری شفقت کو بالائے طاق رکھ کر بیٹے کی گردن پر چھری پھیر دینے کو تیار ہو جاتا تھا۔ابتدائی ایام میں اسلام جس قدر کمز ور تھا۔صحابہ میں اگر ایمانی غیرت اس قدر ز بر دست نہ ہوتی اور وہ چند مسلمان بھی رشتہ داریوں اور تعلقات کا لحاظ کرتے اور مقابلہ کے وقت یہ سوچنے لگتے کہ مد مقابل ان کا عزیز ہے یا اندرونی طور پر اسلام کو نقصان پہنچانے والوں کو اپنے قریبی سمجھ کر سزا سے بچانے کی کوشش شروع کر دیتے تو اسلامی ترقی فورا رک جاتی۔آج ہمارے زمانہ میں گولڑائیاں تو ممنوع ہیں اور میدان جنگ سے ہم لوگ بہت دور ہیں۔اس لیے تلوار کے ساتھ اعزہ کے مقابلہ کا سوال تو در کنار دشمن کے ساتھ بھی اس کا کوئی موقعہ نہیں۔لیکن تہذیب جدید کے ساتھ جو خطرناک امراض ہمارے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں ان میں سے ایک جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے قومی زندگی کے لیے سخت مہلک ہے بے جا ظاہرداری، مصنوعی ہمدردی ، بناوٹی اخلاص اور بعض اس کے مفروضہ تقاضے ہیں۔ایک طرف اگر در پردہ فتنہ انگیزی کی عادت زیادہ پائی جاتی ہے تو دوسری طرف اس کی بے جا حمایت ہے۔بعض لوگ اپنی عادت سے مجبور ہو کر دین کی حقیقت سے غافل ہونے کی وجہ سے اور یا پھر دشمنوں کا آلہ کار بن کر جماعت کے اندر ایسی باتیں کرتے رہتے ہیں جن کے نتیجہ میں تفرقہ اور شقاق پیدا ہو کر وحدت قومی کونقصان پہنچے۔اور ایسے لوگوں کے خلاف نوٹس لینے اور ان کے پھیلائے ہوئے زہر سے دوسروں کو محفوظ رکھنے میں ایک بہت بڑی روک یہ پیدا ہو جاتی ہے کہ لوگ اپنے اعزہ واقارب کی ایسی باتوں پر پردہ ڈالتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ان کا یہ مرض ظاہر نہ ہو۔اور وہ کسی گرفت کے نیچے نہ آسکیں۔بلکہ سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اگر ایسی باتیں خود بخود ظاہر ہو جائیں تو تب بھی ان کی ایمانی غیرت میں کوئی حرکت پیدا نہیں ہوتی کہ اپنی شہادت پیش کر کے ہی اس فتنہ کے سدباب میں محمد ہوں اور ثواب حاصل کریں۔مذکورہ بالا واقعات سے آپ پر ثابت ہوگا کہ صحابہ اس مرض سے بالکل پاک تھے۔حتی کہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھی اس ضمن میں اپنے فرائض کا پوری طرح احساس تھا۔اور اگر وہ کوئی فتنه انگیزی پیدا کرنے والی ایسی بات سن پاتے تو خواہ وہ ان کے کسی عزیز ترین رشتہ دار کی طرف سے ہوتی اور اس کا اظہار ان کے لیے سخت سے سخت مشکلات پیدا کرنے کا موجب ہوسکتا۔وہ خود بخود آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے۔قومی اور ملی مفاد کو ذاتی مفاد اور اپنے آرام و آسائش پر مقدم کرتے اور عواقب سے آنکھیں بند کر کے حضور کو صحیح واقعات سے آگاہ کر دیتے تھے۔بلکہ اپنے ہاتھ سے تلوار کے ساتھ فتنہ کے اس دروازہ کو بند کرنے کے لیے اپنی خدمات پیش کر دیتے تھے۔اگر ہمارے نوجوان بھی ان مثالوں کو مشعل راہ بنائیں اور موجودہ زمانہ کے لحاظ سے اس قسم کے فتن کے سد باب کے لیے ہر ممکن اور جائز ذریعہ کو استعمال میں لائیں تو استحکام دین میں اس سے بہت مددمل سکتی ہے۔اور دشمنوں کی نقصان رسانی سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔دینی امور میں راز داری غیرت ایمانی کے باب میں ایسی امثلہ پیش کی جاچکی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کرام دین میں فتنہ پیدا کرنے والے امور کو کسی صورت میں چھپاتے نہیں تھے۔اور ان پر پردہ www۔alislam۔org