مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 45
90 مسلم نوجوانوں کے کارنامے 89 مسلم نوجوانوں کے نامے 15 - حضرت عمر نے 33 سال کی عمر یعنی جوانی میں اسلام قبول کیا تھا۔یہ وہ وقت تھا جب مسلمان نہایت بے بسی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔حضرت عمر ایمان لائے تو مشرکین کو جمع کر کے اعلان کیا کہ اس پر قریش کا بگڑنا ایک لازمی بات تھی۔لیکن آپ کے رشتہ کے ماموں عاص بن وائل نے آپ کو اپنی پناہ میں لینے کا اعلان کیا۔مگر آپ کی غیرت ایمانی نے اس آسرے کو پسند نہ کیا۔اور صاف کہہ دیا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں۔درآنحالیکہ دوسرے مسلمان مشرکوں کے مظالم کا تختہ مشق بنے ہوئے ہیں۔میں یہ پسند نہیں کرتا کہ کسی کی پناہ کے باعث آرام کی زندگی بسر کروں۔آپ نہایت جوانمردی کے ساتھ مشرکین کے مظالم کا مقابلہ کرتے رہے حتی کہ مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ کعبہ میں جا کر نماز ادا کی۔16 - دینی غیرت نہ صرف مسلمان مردوں بلکہ عورتوں میں بھی اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ ایمان اور اسلام کے لیے اپنی جانیں اور اپنی عزیز اولادوں کو نہایت جوش کے ساتھ قربان کرنے کے لیے تیار ہو جاتی تھیں۔حضرت ابوبکر کے عہد میں جب مسیلمہ کذاب کے ساتھ جنگ یمامہ پیش آئی تو حضرت ام عمارہ اس مردود کے فتنہ سے اسلام کو پاک دیکھنے کے لیے اس قدر بے تاب ہوئیں کہ اپنے نوجوان لڑکے کو ساتھ لے کر حضرت خالد کے لشکر میں شامل ہوئیں اور اس کے مقابلہ کے لیے میدان جنگ میں گئیں۔اس جنگ میں حضرت حبیب کو شہادت نصیب ہوئی۔ہمارے زمانہ کی مستورات غور کریں کہ ایسے وقت میں کہ ان کا نو جوان لڑکا موت کی نیند سو رہا ہو ان کی کیا حالت ہوگی۔وہ یقینا جزع فزع اور نالہ وشیون سے آسمان سر پر اٹھا لیں گی۔اور اپنے حواس بھی کھو دیں گی۔لیکن اس زندہ جاوید خاتون کی ایمانی غیرت ملاحظہ ہو کہ اپنے فرزند کی لاش کو دیکھ کر کہا کہ اس جنگ میں یا تو مسلمہ قتل ہوگا اور یا پھر میں بھی اپنی جان دے دوں گی۔یہ کہا اور تلوار کھینچ کر میدان جنگ میں کود پڑیں۔اور ایسی داد شجاعت دی کہ بارہ زخم کھائے۔ایک ہاتھ بھی کٹ گیا۔مگر پیچھے نہ ہٹیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کی غیرت کو دیکھتے ہوئے ان کے منہ سے نکلی ہوئی بات کو پورا کر دیا۔چنانچہ مسیلمہ اسی جنگ میں مارا گیا۔حوالہ جات ا۔(استیعاب ج1 ص194) ۳۔(استیعاب ج 3 ص 72،71) ۵- (اسد الغابہ ج4 ص654) ے۔عمار بن یاسر ؟ و۔(اسد الغابہ ج 3 ص493) ا۔(اسد الغابہ زیر لفظ ابو حذیفہ ) ۱۳۔( بخاری کتاب الجہاد ) ۱۵۔(ابن سعد ج 1 ص 193) ۲۔(سیرۃ ابن ھشام ص 430) ۴۔(ابن سعد ج 2 ص 36 ، 37 ) ۶۔(سیر انصار ج 3 ص 107 تا 109)۔( ابن سعد ج 3 ص 182) ۱۰۔(اسد الغابہ ج 5 ص 249) ۱۲۔(مسلم کتاب الجہاد ) ۱۴۔( بخاری کتاب المناقب) ۱۲۔(سیر الصحابیات ص 130) www۔alislam۔org